حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 253

۹۳۵ اندیشہ تھا اس لئے برعایت ظاہر اسباب مسیح نے اس ملک کو چھوڑ دیا۔اور اس کے مخالف جس قدر با تیں بیان کی جاتی ہیں وہ سب کی سب بے ہودہ اور خام خیال ہیں۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۶ تا ۴۹) ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جو ایسی شہادت ہے کہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسی ہے جو طب کی صد ہا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے۔ان کتابوں میں سے بعض ایسی ہیں جو عیسائیوں کی تالیف ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ جن کے مؤلف مجوسی یا یہودی ہیں اور بعض کے بنانے والے مسلمان ہیں اور اکثر اُن میں بہت قدیم زمانہ کی ہیں۔تحقیق سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ اول زبانی طور پر اس نسخہ کا لاکھوں انسانوں میں شہرہ ہو گیا۔اور پھر لوگوں نے اس نسخہ کو قلمبند کر لیا۔پہلے رومی زبان میں حضرت مسیح کے زمانہ میں ہی کچھ تھوڑا عرصہ واقعہ صلیب کے بعد ایک قرابا دین تالیف ہوئی جس میں یہ نسخہ تھا اور جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔پھر وہ قرابا دین کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی یہاں تک کہ مامون رشید کے زمانہ میں عربی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا۔اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی، کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے طیار کیا تھا اور جن کتابوں میں ادویہ مفردہ کے خواص لکھے ہیں ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ ان چوٹوں کے لئے نہایت مفید ہے جو کسی ضربہ یا سقطہ سے لگ جاتی ہیں اور چوٹوں سے جو خون رواں ہوتا ہے وہ فی الفور اس سے خشک ہو جاتا ہے۔اور چونکہ اُس میں مر بھی داخل ہے اس لئے زخم کیڑا پڑنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔یہ معلوم نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت عیسی علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا کسی طبیب کے مشورہ سے تیار کی گئی تھی۔اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں خاص کر مر جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔بہر حال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام کے زخم چند روز میں ہی اچھے ہو گئے اور اس قدر طاقت آ گئی کہ آپ تین روز میں پیروشلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پاگئے۔پس اس دوا کی تعریف میں اس قدر کافی ہے کہ مسیح تو اوروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس دوا نے مسیح کو اچھا کیا۔اور جن طب