حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 218
۹۰۰۔حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بدبخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ اُن کو ہلاک کریں۔اور نہ صرف ہلاک بلکہ اُن کی پاک رُوح پر صلیبی موت سے لعنت کا داغ لگا دیں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے۔یعنی اس کا دل پلید اور نا پاک اور خدا کے قرب سے دُور جا پڑتا ہے۔اور راندہ درگاہ الہی اور شیطان کی مانند ہو جاتا ہے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔اور یہ نہایت بد منصوبہ تھا کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت سوچا گیا تھا تا اس سے وہ نالائق قوم یہ نتیجہ نکالے کہ یہ شخص پاک دل اور سچا نبی اور خدا کا پیارا نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ لعنتی ہے جس کا دل پاک نہیں ہے۔اور جیسا کہ مفہوم لعنت کا ہے وہ خدا سے بجان و دل بیزار اور خدا اس سے بیزار ہے۔لیکن خدائے قادر قیوم نے بدنیت یہودیوں کو اس ارادہ سے ناکام اور نامراد رکھا اور اپنے پاک نبی علیہ السلام کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا بلکہ اس کو ایک سو بیس برس تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہودیوں کو اس کے سامنے ہلاک کیا ہاں خدا تعالیٰ کی اس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اوالو العزم نبی ایسا نہیں گذرا جس نے قوم کی ایذاء کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پا کر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تھے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخر کار خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر خانیار کے محلہ میں باعزاز تمام دفن کئے گئے۔آپ کی قبر بہت مشہور ہے۔راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۵۵،۱۵۴) یہود تو حضرت عیسی کے معاملہ میں اور اُن کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قومی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی اُن کا جواب دینے میں حیران ہیں۔بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسی نبی ہے کیونکہ قرآن نے اُس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اُن کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔یہ احسان قرآن کا اُن پر ہے کہ اُن کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔اسی وجہ سے ہم اُن پر ایمان لائے کہ وہ بچے نبی ہیں اور برگزیدہ ہیں اور اُن تہمتوں سے معصوم ہیں جو اُن پر اور اُن کی ماں پر لگائی گئی ہیں۔قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑی تہمتیں اُن پر دو تھیں۔(۱) ایک یہ کہ ان کی پیدائش نعوذ باللہ لعنتی ہے یعنی وہ ناجائز طور پر پیدا ہوئے۔(۲) دوسری یہ کہ ان کی موت بھی لعنتی ہے کیونکہ وہ صلیب کے ذریعہ سے مرے ہیں اور توریت میں لکھا تھا کہ جو ولد الزنا ہو وہ ملعون ہے وہ ہرگز بہشت میں داخل نہیں ہو گا اور اس کا خدا کی طرف رفع نہیں