حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 219

۹۰۱ ہوگا اور ایسا ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی جس کی صلیب کے ذریعہ سے موت ہو وہ بھی لعنتی ہے اور اس کا بھی خدا کی طرف رفع نہیں ہوگا۔یہ دونوں اعتراض بڑے سخت تھے۔خدا نے قرآن شریف میں ان دونوں اعتراضات کا ایک ہی جگہ جواب دیا ہے اور وہ یہ ہے۔وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِـ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمُ يا (الجزو ٦ سورة نساء) اس آیت میں دونوں جملوں کا جواب ہے اور خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ نہ تو عیسی کی ناجائز ولادت ہے اور نہ وہ صلیب پر مرا بلکہ دھو کے سے سمجھ لیا گیا کہ مر گیا ہے اس لئے وہ مقبول ہے اور اس کا اور نبیوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہو گیا ہے۔اب کہاں ہیں وہ مولوی جو آسمان پر حضرت عیسی کا جسم پہنچاتے ہیں۔یہاں تو سب جھگڑا اُن کی روح کے متعلق تھا جسم سے اس کو کچھ علاقہ نہیں۔غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن کی پیشگوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کر سکتے صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے اُن کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔عیسائی تو اُن کی خدائی کو روتے ہیں مگر یہاں نبوت بھی اُن کی ثابت نہیں ہوسکتی۔اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۰، ۱۲۱) اگر ظاہر پر فیصلہ کریں تو بے شک حضرت مسیح کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ کذب اور افترا ثابت ہوتا ہے اور کذب بھی ایسا کہ جس کو ایلیا قرار دیا گیا وہ خود ایلیا ہونا منظور نہیں کرتا اور مدعی سست اور گواہ پست کا معاملہ نظر آتا ہے۔مگر چونکہ قرآن کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کر دی ہے اس لئے ہم بہر حال حضرت مسیح کو سچا نبی کہتے اور مانتے ہیں۔اور اُن کی نبوت سے انکار کرنا کفر صریح قرار دیتے ہیں۔( ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۰۴،۳۰۳) حضرت عیسی علیہ السلام تو عجیب طور پر جاہلوں کا نشانہ ہوئے ہیں۔ان کی زندگی کے زمانہ میں تو یہود بے دین نے ان کا نام کافر اور کذاب اور مکار اور مفتری رکھا اور ان کے رفع روحانی سے انکار کیا۔اور پھر جب وہ فوت ہو گئے تو ان لوگوں نے جن پر انسان پرستی کی سیرت غالب تھی ان کو خدا بنا دیا۔اور یہودی تو رفع روحانی سے ہی انکار کرتے تھے اب بمقابل ان کے رفع جسمانی کا اعتقاد ہوا اور یہ بات مشہور کی گئی کہ وہ مع جسم آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔گویا پہلے نبی تو روحانی طور پر بعد موت آسمان پر ل النساء: ۱۵۸،۱۵۷