حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 217
۸۹۹ پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔لہذا محض ایسے یا وہ لوگوں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر دل و جان سے ایمان لائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے صد ہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔پس ہم اُن کی حیثیت کے موافق ہر طرح اُن کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین آخرین کو عنتی سمجھتا تھا۔یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سز العنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔قرآن نے ہمیں اس گستاخ اور بد زبان یسوع کی خبر نہیں دی۔اُس شخص کی چال چلن پر ہمیں نہایت حیرت ہے جس نے خدا پر مرنا جائز رکھا اور آپ خدائی کا دعویٰ کیا اور ایسے پاکوں کو جو ہزار ہا درجہ اس سے بہتر تھے گالیاں دیں۔سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے۔اور خدائے تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی بن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سُن کر اختیار کیا ہے۔بعض نادان مولوی جن کو اندھے اور نابینا کہنا چاہئے عیسائیوں کو معذور رکھتے ہیں کہ وہ بیچارے کچھ بھی منہ سے نہیں بولتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بے ادبی نہیں کرتے لیکن یاد رہے کہ در حقیقت پادری صاحبان تحقیر اور توہین اور گالیاں دینے میں اول نمبر پر ہیں۔ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صد ہا گالیوں سے بھر دیا ہے۔جس مولوی کی خواہش ہو وہ آکر دیکھ لیوے۔اور یادر ہے کہ آئندہ جو پادری صاحب گالی دینے کے طریق کو چھوڑ کر ادب سے کلام کریں گے ہم بھی ان کے ساتھ ادب سے پیش آویں گے اب تو وہ اپنے یسوع پر آپ حملہ کر رہے ہیں کہ کسی طرح سب وشتم سے باز ہی نہیں آتے۔ہم سنتے سنتے تھک گئے۔اگر کوئی کسی کے باپ کو گالی دے تو کیا اس مظلوم کا حق نہیں ہے کہ اُس کے باپ کو بھی گالی دے اور ہم نے تو جو کچھ کہا واقعی کہا۔وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔خاکسار غلام احمد ۲۰ ؍دسمبر ۱۸۹۵ء ( نور القرآن نمبر ۲ ٹائٹل پیج۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴ ۳۷، ۳۷۵)