حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 194
تناقضات جمع کر لئے ہیں۔یعنی ایک طرف تو قرآن شریف پر ایمان لا کر اور احادیث صحیحہ کو تسلیم کر کے ان کو یہ ماننا پڑا کہ حضرت عیسی در حقیقت فوت ہو گئے ہیں اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی انہوں نے رکھا کہ کسی زمانہ میں خود حضرت عیسی علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہونگے اور وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں فوت نہیں ہوئے اور پھر ایک طرف آنحضرت لعل اللہ کو خاتم الانبیاء قرار دیا اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی ایک نبی آنے والا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام جو کہ نبی ہیں اور ایک طرف یہ عقیدہ رکھا کہ مسیح موعود دجال کے وقت آئے گا اور دجال کا تمام روئے زمین پر بجز حرمین شریفین تسلط ہو جائے گا اور دوسری طرف بموجب حدیث صحیح مرفوع متصل صحیح بخاری اس بات کو بھی انہیں ماننا پڑا کہ مسیح موعود صلیب کے غلبہ کے وقت آئے گا یعنی اس وقت جبکہ عیسائی مذہب دنیا میں زور کے ساتھ پھیلا ہوا ہوگا اور عیسائی طاقت اور دولت سب طاقتوں اور دولتوں سے بڑھی ہوئی ہوگی۔اور پھر ایک طرف یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ مسیح اپنے وقت کا حاکم اور امام اور مہدی ہوگا اور پھر دوسری طرف یہ عقیدہ رکھا کہ میسیج مہدی اور امام نہیں بلکہ مہدی کوئی اور ہو گا جو بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔غرض اس قسم کے بہت سے تناقضات جمع کر کے اس پیشگوئی کی صحت کی نسبت لوگوں کو تذبذب اور شک میں ڈال دیا کیونکہ جوا مرکئی تناقضات کا مجموعہ ہو ممکن نہیں کہ وہ صحیح ہو۔پھر اہل عقل لوگ کیونکر اس کو قبول کر سکیں اور کیونکر اپنے جو ہر عقل کو پیروں کے نیچے کچل کر اس ٹیڑھے طریق پر قدم ماریں۔اسی وجہ سے حال کے ان نو تعلیم یافتہ لوگوں کو جو نیچر اور قانون قدرت اور عقلی نظام کو واقعات کی صحت یا عدم صحت کیلئے ایک معیار قرار دیتے ہیں اس پیشگوئی سے باوجود اعلیٰ درجہ کے تواتر کے جو اس میں ہے انکار کرنا پڑا اور در حقیقت اگر اس کے یہی معنے کئے جائیں کہ جو اس قدر تناقضات کو اپنے اندر رکھتے ہیں تو انسانی عقل ان تناقضات کی تطبیق سے عاجز آ کر آخر اس پریشانی سے رہائی اسی میں دیکھتی ہے کہ اس پیشگوئی کی صحت سے بھی انکار کرے۔سو یہی سبب تھا کہ نیچر اور عقل کے دلدادہ با وجود پیشگوئی کے اس قدر تواتر کے اس عظیم الشان پیشگوئی سے انکاری ہو گئے لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے بھی انکار کرنے میں بڑی شتاب کاری سے کام لیا ہے کیونکہ اخبار متواترہ سے کوئی عظمند انکار نہیں کر سکتا اور جو خبر تو اتر کے درجہ پر پہنچ جائے ممکن نہیں کہ اس میں کذب کا شائبہ ہو۔پس طریق انصاف اور حق پرستی یہ تھا کہ خبر متواتر کورد نہ کرتے۔ہاں ان معنوں کو رد کر دیتے جو نادان مولویوں نے کئے جن سے کئی قسم کے تناقض لازم آئے اور کئی تناقض جمع بھی کر لئے اور در حقیقت یہ ناقص الفہم مولویوں کا قصور ہے جو انہوں نے ایک سیدھی