حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 195
ALL اور صاف پیشگوئی کے ایسے معنے کر کے جو تناقضات کا مجموعہ تھے محقق طبع لوگوں کو بڑی پریشانی اور سرگردانی میں ڈال دیا۔اب خدا تعالیٰ نے اس کے بچے اور صحیح معنے کھول کر جو تناقضات اور نامعقولیت سے بالکل پاک ہیں ہر ایک انصاف پسند محقق کو یہ موقعہ دیا ہے کہ وہ اس خبر متواتر کو مان کر اس کے مصداق کی تلاش میں لگ جائے اور خدا تعالیٰ کی صریح پیشگوئی سے انکار کر کے مکذبین میں داخل نہ ہو۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۰۵ تا ۲۱۱ حاشیه ) اس پیشگوئی کو صرف ظاہری الفاظ تک محدود رکھنے میں بڑی بڑی مشکلات ہیں۔قبل اس کے جو مسیح آسمان سے اترے صد ہا اعتراض پہلے ہی سے اتر رہے ہیں۔ان مشکلات میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اور ہمیں اس بات کی کیا حاجت کہ ابن مریم کو آسمان سے اتارا جائے اور ان کا نبوت سے الگ ہونا تجویز کیا جائے اور ان کی اس طرح پر تحقیر کی جائے کہ دوسرا شخص امامت کرے اور وہ پیچھے مقتدی بنیں اور دوسرا شخص ان کے رو برولوگوں سے بیعت امامت و خلافت لے اور وہ بدیدۂ حسرت دیکھتے رہیں اور احد المسلمین بن کر اپنی نبوت کا دم نہ مار سکیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴ ۱۷) اس پیشگوئی کے سمجھنے میں اہل عقل اور تدبر کرنے والوں کے لئے کچھ بھی دقت نہ تھی کیونکہ رسول کریم ﷺ کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہرگز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النبينَ اے سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد تشریف لاوے۔اس سے تو تمام تارو پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا اور یہ کہنا کہ ”حضرت عیسیٰ نبوت سے معطل ہو کر آئیگا نہایت بے حیائی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔کیا خدا تعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسی علیہ السلام جیسے اپنی نبوت سے معطل ہو سکتے ہیں۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۱۸،۲۱۷ حاشیه ) نزول سے مراد در حقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی الاحزاب: ام