حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 193
۸۷۵ بعد ان پر گزریں گے پیش کر دیا ہے۔عقلمند لوگ اس پر غور کریں کہ کہاں تک اس میں خلاف قانون قدرت باتیں ہیں۔کہاں تک اس میں اجتماع نقیضین موجود ہے کہاں تک یہ شان نبوت سے بعید ہے لیکن اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ یہ تمام ذخیرہ رطب ویابس کا صحیحین میں نہیں ہے۔امام محمد اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے اس بارہ میں اشارہ تک بھی نہیں کیا کہ یہ مسیح آنے والا در حقیقت اور سچ سچ وہی پہلا مسیح ہوگا بلکہ انہوں نے دو حدیثیں آنحضرت ﷺ کی طرف سے ایسی لکھی ہیں جنہوں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ مسیح اول اور ہے اور مسیح ثانی اور کیونکہ ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ ابن مریم تم میں اترے گا اور پھر بیان کے طور پر کھول دیا ہے کہ وہ ایک تمہارا امام ہوگا جو تم میں سے ہی ہوگا۔پس ان لفظوں پر خوب غور کرنی چاہیے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لفظ ابن مریم کی تصریح میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک تمہارا امام ہوگا جو تم میں سے ہی ہوگا اور تم میں سے ہی پیدا ہوگا۔گویا آنحضرت علی نے اس وہم کو دفع کرنے کے لئے جو ابن مریم کے لفظ سے دلوں میں گزرسکتا تھا ما بعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرما دیا کہ اس کو سچ سچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو بَلْ هُوَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور دوسری حدیث جو اس بات کا فیصلہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح اول کا حلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور طرح کا فرمایا ہے اور مسیح ثانی کا حلیہ اور طور کا ذکر کیا ہے جو اس عاجز کے حلیہ سے بالکل مطابق ہے۔اب سوچنا چاہیے کہ ان دونوں حلیوں میں تناقض صریح ہونا کیا اس بات پر پختہ دلیل نہیں ہے کہ در حقیقت مسیح اول اور ہے اور مسیح ثانی اور۔(ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲۱ تا ۱۲۴) اس جگہ اس بات کا لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرا یہ دعویٰ کہ میں مسیح موعود ہوں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے ظہور کی طرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور احادیث نبویہ کی متواتر پیشگوئیوں کو پڑھ کر ہر ایک شخص اس بات کا منتظر تھا کہ کب وہ بشارتیں ظہور میں آتی ہیں۔بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا اور یہ پیشگوئی اگر چه قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے مگر احادیث کے رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عند العقل ممتنع ہے۔اگر تو اتر کچھ چیز ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلیں کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو اس درجہ تو اتر پر ہو جیسا کہ اس پیشگوئی میں پایا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ باوجود اس تواتر کے ہمارے زمانہ فیج اعوج کے علماء نے اس پیشگوئی کے صحیح صحیح معنے سمجھنے میں بڑا دھوکا کھایا ہے اور بباعث سخت غلط انہی کے اپنے عقیدہ میں قابل شرم