حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 189

۸۷۱ میرا اور میری جماعت کا عقیدہ مہدی کی نسبت مہدی اور مسیح موعود کے بارے میں جو میرا عقیدہ اور میری جماعت کا عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ اس قسم کی تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں ہرگز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں۔میرے نزدیک ان پر تین قسم کا جرح ہوتا ہے یا یوں کہو کہ وہ تین قسم سے باہر نہیں۔(۱) اول وہ حدیثیں کہ موضوع اور غیر صحیح اور غلط ہیں۔اور ان کے راوی خیانت اور کذب سے متہم ہیں اور کوئی دیندار مسلمان ان پر اعتماد نہیں کر سکتا۔(۲) دوسری وہ حدیثیں ہیں جو ضعیف اور مجروح ہیں اور باہم تناقض اور اختلاف کی وجہ سے پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں اور حدیث کے نامی اماموں نے یا تو ان کا قطعاً ذکر ہی نہیں کیا اور یا جرح اور بے اعتباری کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور توثیق روات نہیں کی یعنی راویوں کے صدق اور دیانت پر شہادت نہیں دی۔(۳) تیسری وہ حدیثیں ہیں جو در حقیقت صحیح تو ہیں اور طرق متعددہ سے ان کی صحت کا پتا ملتا ہے۔لیکن یا تو وہ کسی پہلے زمانہ میں پوری ہو چکی ہیں اور مدت ہوئی کہ ان لڑائیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں اور یا یہ بات ہے کہ ان میں ظاہری خلافت اور ظاہری لڑائیوں کا کچھ بھی ذکر نہیں صرف ایک مہدی یعنی ہدایت یافتہ انسان کے آنے کی خوشخبری دی گئی ہے اور اشارات سے بلکہ صاف لفظوں میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کی ظاہری بادشاہت اور خلافت نہیں ہوگی اور نہ وہ لڑے گا اور نہ خون ریزی کریگا اور نہ اس کی کوئی فوج ہو گی اور روحانیت اور دلی توجہ کے زور سے دلوں میں دوبارہ ایمان قائم کر دیگا۔جیسا کہ حدیث لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِیسی جو ابن ماجہ کی کتاب میں جو اسی نام سے مشہور ہے اور حاکم کی کتاب مستدرک میں انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے۔اور یہ روایت محمد بن خالد جندی نے ابان بن صالح سے اور ابان بن صالح نے حسن بصری سے اورحسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نے جناب رسول اللہ علیہ سے کی ہے اور اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ بجز اس شخص کے جو عیسی کی خو اور طبیعت پر آئے گا اور کوئی بھی مہدی نہیں آئے گا یعنی وہی مسیح موعود ہوگا اور