حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 190
۸۷۲ وہی مہدی ہوگا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی خواور طبیعت اور طریق تعلیم پر آئے گا۔یعنی بدی کا مقابلہ نہ کرے گا اور نہ لڑے گا اور پاک نمونہ اور آسمانی نشانوں سے ہدایت کو پھیلائے گا۔اور اسی حدیث کی تائید وہ حدیث ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں لکھی ہے جس کے لفظ یہ ہیں کہ يَضَعُ الْحَرُب یعنی وہ مہدی جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے دینی لڑائیوں کو قطعاً موقوف کر دیگا اور اس کی یہ ہدایت ہوگی کہ دین کے لئے لڑائی مت کرو بلکہ دین کو بذریعہ سچائی کے نوروں اور اخلاقی معجزات اور خدا کے قرب کے نشانوں کے پھیلاؤ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص اس وقت دین کے لئے لڑائی کرتا ہے یا کسی لڑنے والے کی تائید کرتا ہے یا ظاہر یا پوشیدہ طور پر ایسا مشورہ دیتا ہے یا دل میں ایسی آرزوئیں رکھتا ہے وہ خدا اور رسول کا نا فرمان ہے۔ان کی وصیتوں اور حدود اور فرائض سے باہر چلا گیا ہے۔اور میں اس وقت اپنی محسن گورنمنٹ کو اطلاع دیتا ہوں کہ وہ مسیح موعود خدا سے ہدایت یافتہ اور مسیح علیہ السلام کے اخلاق پر چلنے والا میں ہی ہوں۔ہر ایک کو چاہیے کہ ان اخلاق میں مجھے آزمادے اور خراب ظن اپنے دل سے دور کرے۔میری ہیں برس کی تعلیم جو براہین احمدیہ سے شروع ہو کر راز حقیقت تک پہنچ چکی ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو اس سے بڑھ کر میری باطنی صفائی کا اور کوئی گواہ نہیں۔میں اپنے پاس ثبوت رکھتا ہوں کہ میں نے ان کتابوں کو عرب اور روم اور شام اور کابل وغیرہ ممالک میں پھیلا دیا ہے اور اس امر سے قطعاً منکر ہوں کہ آسمان سے اسلامی لڑائیوں کیلئے مسیح نازل ہوگا اور کوئی شخص مہدی کے نام سے جو بنی فاطمہ سے ہوگا بادشاہ وقت ہوگا اور دونوں مل کر خونریزیاں شروع کر دیں گے۔خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ یہ باتیں ہرگز صحیح نہیں ہیں۔مدت ہوئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے۔کشمیر میں محلہ خانیار میں آپ کا مزار موجود ہے۔سو جیسا کہ مسیح کا آسمان سے اتر نا باطل ثابت ہوا اور ایسا ہی کسی مہدی غازی کا آنا باطل ہے۔اب جو شخص سچائی کا بھوکا ہے وہ اس کو قبول کرے۔فقط (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۹ تا ۴۳۳) میرا بیان مسیح موعود کی نسبت جس کی آسمان سے اتر نے اور دوبارہ دنیا میں آنے کی انتظار کی جاتی ہے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے یہ ہے کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں۔قرآن شریف تو ہمیشہ کیلئے اس کو دنیا سے رخصت کرتا ہے۔البتہ بعض حدیثوں میں جو استعارات سے پر ہیں مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیشگوئی بیان