حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 188
۸۷۰ دیں۔اور نہ خدا کا بیٹا۔اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے منارہ کے قریب یا کسی اور جگہ اتریں گے اور امام محمد مہدی کے ساتھ مل کر جو پہلے سے بنی فاطمہ میں سے دنیا میں آیا ہوا ہوگا دنیا کی تمام غیر قوموں کو قتل کر ڈالیں گے اور بجز ایسے شخص کے جو بلا توقف مسلمان ہو جائے اور کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔غرض مسلمانوں کا وہ فرقہ جو اپنے تئیں اہل سنت یا اہل حدیث کہتے ہیں جن کو عوام وہابی کے نام سے پکارتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ زمین پر نازل ہونے سے اصل مقصد یہ قرار دیتے ہیں کہ تا وہ ہندوؤں کے مہادیو کی طرح تمام دنیا کو فنا کر ڈالیں۔اول یہ دھمکی دیں کہ مسلمان ہو جائیں اور اگر پھر بھی لوگ کفر پر قائم رہیں تو سب کو تہ تیغ کر بالخصوص عیسائیوں کی نسبت بڑے زور سے فرقہ مذکورہ کے عالم یہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو وہ دنیا کی تمام صلیبیوں کو توڑ دیں گے اور تلوار کے ساتھ سخت بے رحمی کی کارروائیاں کرینگے اور دنیا کو خون میں غرق کر دینگے اور گو حضرت عیسی علیہ السلام۔۔بھی بجائے خود ایک مہدی ہیں بلکہ بڑے مہدی وہی ہیں لیکن اس سبب سے کہ خلیفہ وقت قریش میں سے ہونا چاہئے اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام خلیفہ وقت نہیں ہونگے بلکہ خلیفہ وقت وہی محمد مہدی ہوگا۔اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں مل کر زمین کو انسانوں کے خون سے بھر دیں گے اور اس قدر خونریزی کرینگے جس کی نظیر ابتدائے دنیا سے اخیر تک کسی جگہ نہیں پائی جائے گی۔اور آتے ہی خون ریزی ہی شروع کر دیں گے اور کوئی وعظ وغیرہ نہیں کرینگے اور نہ کوئی نشان دکھا ئیں گے اور کہتے ہیں کہ اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام امام محمد مہدی کے لئے بطور مشیر یا وزیر کے ہونگے اور عنان حکومت صرف مہدی کے ہاتھ میں ہوگی لیکن حضرت مسیح تمام دنیا کے قتل کرنے کیلئے حضرت امام محمد مہدی کو ہر وقت اکسائیں گے اور تیز مشورے دیتے رہیں گے گویا اس اخلاقی زمانہ کی کسر نکالیں گے جبکہ آپ نے یہ تعلیم دی تھی کہ کسی شر کا مقابلہ مت کرو اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دو۔“ (مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵ تا ۷ )