حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 178

۸۶۰ اور بے ایمانی اور بد چلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسیٰ کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کے لئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزار ہانبی اس شریعت کی تجدید کیلئے بھیجے اور بارہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ اُمت جو خیر الامم کہلاتی ہے اور خیر الرسل عمل کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بدقسمت مجھی جائے کہ خدا تعالیٰ نے صرف تیں برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اس سے منہ پھیر لیا۔اور پھر اس اُمت پر اپنے نبی کریم کی مفارقت میں صد ہا برس گزرے اور ہزار ہا طور کے فتنے پڑے اور بڑے بڑے زلزلے آئے اور انواع اقسام کی دجالیت پھیلی اور ایک جہان نے دین متین پر حملے کئے اور تمام برکات و معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کو نا مقبول ٹھہرایا گیا۔لیکن خدا تعالیٰ نے پھر کبھی نظر اٹھا کر اس امت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آبپاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں۔کیا اس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس نبی کریم ﷺ کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا۔کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی اُمتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزار ہا رسول اور محدث توریت کی تائید کیلئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کیلئے بھیجے۔لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کر کے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کیلئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا۔اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا۔وَكَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا لا یعنی خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور منذر تھے تا کہ لوگوں کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔اور فرمایا۔وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ا یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا۔لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا۔گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ل النساء : ۱۶۶،۱۶۵ النساء: ۱۶۵