حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 177

۸۵۹ ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔اب جبکہ سزائے انکار کتاب الہی میں ایسی سخت تھی اور دوسری طرف یہ مسئلہ نبوت اور وحی الہی کا نہایت دقیق تھا بلکہ خود خدا تعالیٰ کا وجود بھی ایسا دقیق در دقیق تھا کہ جب تک انسان کی آنکھ خدا دا دنور سے منور نہ ہو ہرگز ممکن نہ تھا کہ سچی اور پاک معرفت اس کی حاصل ہو سکے چہ جائیکہ اس کے رسولوں کی معرفت اور اس کی کتاب کی معرفت حاصل ہو۔اس لئے رحمانیت الہی نے تقاضا کیا کہ اندھی اور نابینا مخلوق کی بہت ہی مدد کی جائے اور صرف اس پر اکتفا نہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ رسول اور کتاب بھیج کر پھر باوجود امتداد از منہ طویلہ کے ان عقائد کے انکار کی وجہ سے جن کو بعد میں آنے والے زیادہ اس سے سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ایک پاک اور عمدہ منقولات ہیں ہمیشہ کی جہنم میں منکروں کو ڈال دیا جائے۔اور در حقیقت سوچنے والے کیلئے یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ وہ خدا جس کا نام رحمن اور رحیم ہے اتنی بڑی سزا دینے کیلئے کیونکر یہ قانون اختیار کر سکتا ہے کہ بغیر پورے طور پر اتمام حجت کے مختلف بلاد کے ایسے لوگوں کو جنہوں نے صدہا برسوں کے بعد قرآن اور رسول کا نام سنا اور پھر وہ عربی سمجھ نہیں سکتے۔قرآن کی خوبیوں کو دیکھ نہیں سکتے دائی جہنم میں ڈال دے اور کس انسان کی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم کا منجانب اللہ ہونا اس پر ثابت کیا جائے یونہی اس پر چھری پھیر دی جائے۔پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلمی طور پر انوار نبوت پا کر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلا دیں۔یہ بھی یادر ہے کہ ہر یک زمانہ کیلئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجدد وقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے۔سو ہمیشہ خدا تعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح کے دنیا میں باقی رہیں۔اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزار ہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہو کر تو ریت کی خدمت میں مصروف رہے۔چنانچہ ان تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے۔اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے۔اور جب بنی اسرائیل میں دہریت