حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 179

۸۶۱ ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہر یک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گزشتہ مجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں۔پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزار ہا انبیا کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بے دلی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بدقسمت پا کر بنی اسرائیل کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے یا بد خیالات میں گرفتار ہو کر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات خیال کرینگے۔اور یہ قول کہ پہلے اس سے ہزار ہا انبیا ہو چکے اور معجزات بھی بکثرت ہوئے اس لئے اس امت کو خوارق اور کرامات اور برکات کی کچھ ضرورت نہیں تھی لہذا خدا تعالیٰ نے ان کو سب باتوں سے محروم رکھا یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں جنہیں وہ لوگ منہ پر لاتے ہیں جن کو ایمان کی کچھ بھی پروا نہیں۔ورنہ انسان نہایت ضعیف اور ہمیشہ تقویت ایمان کا محتاج ہے اور اس راہ میں اپنے خود ساختہ دلائل کبھی کام نہیں آ سکتے جب تک تازہ طور پر معلوم نہ ہو کہ خدا موجود ہے۔ہاں جھوٹا ایمان جو بدکاریوں کو روک نہیں سکتا نفلی اور عقلی طور پر قائم رہ سکتا ہے۔اور اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ دین کی تعمیل اس بات کو مستلزم نہیں جو اس کی مناسب حفاظت سے بکلی دست بردار ہو جائے۔مثلاً اگر کوئی گھر بناوے اور اس کے تمام کمرے سلیقہ سے تیار کرے اور اس کی تمام ضرورتیں جو عمارت کے متعلق ہیں باحسن وجہ پوری کر دیوے اور پھر مدت کے بعد اندھیریاں چلیں اور بارشیں ہوں اور اس گھر کے نقش و نگار پر گردوغبار بیٹھ جاوے اور اس کی خوبصورتی چھپ جاوے اور پھر اس کا کوئی وارث اس گھر کو صاف اور سفید کرنا چاہے مگر اس کو منع کر دیا جاوے کہ گھر تو مکمل ہو چکا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ منع کرنا سراسر حماقت ہے۔افسوس کہ ایسے اعتراضات کرنے والے نہیں سوچتے کہ تکمیل شے دیگر ہے اور وقتا فوقتا ایک مکمل عمارت کی صفائی کرنا یہ اور بات ہے۔یہ یاد رہے کہ مسجد دلوگ دین میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتے۔ہاں گمشدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجد دوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيْكَ هُمُ الْفُسِقُونَ لا یعنی بعد اس کے جو خلیفے بھیجے جائیں پھر جو شخص ان کا منکر رہے وہ فاسقوں میں سے ہے۔اب خلاصہ اس تمام تقریر کا کسی قدر اختصار کے ساتھ ہم ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دلائل مندرجہ ذیل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ بعد وفات رسول اللہ علیہ اس امت النور : ۵۶