حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 107

۷۸۹ يُخْرِجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّ وَهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ لا یعنی نصاری وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی تو اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے۔نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے کے لئے لڑائیاں نہیں کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگر چہ عیسائی ہوں یا یہودی ہوں بے شک ان پر احسان کرو۔ان سے ہمدردی کر و انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے۔اور پھر فرماتا ہے۔اِنَّمَا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَاَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظُهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ہے یعنی خدا نے جو تمہیں ہمدردی اور دوستی سے منع کیا ہے تو صرف ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے دینی لڑائیاں تم سے کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نکالا اور بس نہ کیا جب تک باہم مل کر تمہیں نکال نہ دیا۔سوان کی دوستی حرام ہے۔کیونکہ یہ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تولی عربی زبان میں دوستی کو کہتے ہیں جس کا دوسرا نام موڈت ہے۔اور اصل حقیقت دوستی اور مودت کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے۔سومومن نصاری اور یہود اور ہنود سے دوستی اور ہمدردی اور خیر خواہی کر سکتا ہے۔احسان کر سکتا ہے۔مگر ان سے محبت نہیں کر سکتا۔یہ ایک باریک فرق ہے اس کو خوب یا درکھو۔( نور القرآن نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۹ تا ۴۳۶) الممتحنة: ١٠٩ ۲۱