حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 108
۷۹۰ ایمان یقین اور معرفت جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ اور عالم مجازات اور دیگر امور مبدء اور معاد کے ماننے میں فلسفیوں کا طریقہ انبیاء علیہم السلام کے طریقہ سے بہت مختلف ہے۔نبیوں کے طریق کا اصل اعظم یہ ہے کہ ایمان کا ثواب تب مترتب اور بارور ہو گا کہ جب غیب کی باتوں کو غیب ہی کی صورت میں قبول کیا جائے اور ظاہری حواس کی کھلی کھلی شہادتیں یا دلائل ہندسیہ کے یقینی اور قطعی ثبوت طلب نہ کئے جائیں۔کیونکہ تمام وکمال مدار ثواب اور استحقاق قرب و توصل الہی کا تقویٰ پر ہے اور تقویٰ کی حقیقت وہی شخص اپنے اندر رکھتا ہے جو افراط آمیز تفتیشوں اور لمبے چوڑے انکاروں اور ہر ہر جزئی کی موشگافی سے اپنے تئیں بچاتا ہے اور صرف دوراندیشی کے طور سے ایک راہ کی سچائی کا دوسری راہوں پر غلبہ اور رحجان دیکھ کر بحسن ظن قبول کر لیتا ہے۔اسی بات کا نام ایمان ہے۔اور اسی ایمان پر فیوض الہی کا دروازہ کھلتا ہے اور دنیا و آخرت میں سعادتیں حاصل ہوتی ہیں۔جب کوئی نیک بندہ ایمان پر محکم قدم مارتا ہے۔اور پھر دعا اور نماز اور فکر اور نظر سے اپنی حالت علمی میں ترقی چاہتا ہے تو خدائے تعالیٰ خود اس کا متولی ہو کر اور آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر درجہ ایمان سے درجہ عین الیقین تک اس کو پہنچا دیتا ہے۔مگر یہ سب کچھ بعد استقامت و مجاہدات و ریاضات و تزکیہ و تصفیہ نفس ملتا ہے پہلے نہیں۔اور جو شخص پہلے ہی تمام جزئیات کی بکلی صفائی کرنا چاہتا ہے اور قبل از صفائی اپنے بدعقائد اور بد اعمال کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا وہ اس ثواب اور اس رہ کے پانے سے محروم ہے۔کیونکہ ایمان اسی حد تک ایمان ہے جب تک وہ امور جن کو مانا گیا ہے کسی قدر پردہ غیب میں ہیں یعنی ایسی حالت پر واقع ہیں جو ابھی تک عقلی ثبوت نے ان پر احاطہ تام نہیں کیا اور نہ کسی کشفی طور پر وہ نظر آئی بلکہ ان کا ثبوت صرف غلبہ نظن تک پہنچا ہے وبس۔یہ تو انبیاء کا سچا فلسفہ ہے جس پر قدم مارنے سے کروڑ ہا بندگان خدا آسمانی برکتیں پاچکے ہیں اور جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے بے شمار خلق اللہ معرفت تامہ کے درجہ تک پہنچ چکی ہیں اور ہمیشہ پہنچتی ہیں۔اور جن اعلیٰ درجہ کی تعیینوں کو شوخی اور جلدی سے فلسفی لوگوں نے ڈھونڈا اور نہ پایا وہ سب مراتب ان ایماندار بندوں کو بڑی آسانی سے مل گئے۔اور اس سے بھی بڑھ کر اس میں معرفت تامہ کے درجہ تک پہنچ گئے کہ