حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 106

۷۸۸ ایمان نہیں لاتے۔مطلب یہ ہے کہ تیری شفقت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ تو ان کے غم میں ہلاک ہونے کے قریب ہے اور پھر ایک مقام میں فرماتا ہے۔تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ل یعنی مومن وہی ہیں جو ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی نصیحت کرتے ہیں۔یعنی یہ کہتے ہیں کہ شدائد پر صبر کرو اور خدا کے بندوں پر شفقت کرو۔اس جگہ بھی مرحمت سے مراد شفقت ہے کیونکہ مرحمت کا لفظ زبان عرب میں شفقت کے معنوں پر مستعمل ہوتا ہے پس قرآنی تعلیم کا اصل مطلب یہ ہے کہ محبت جس کی حقیقت محبوب کے رنگ سے رنگین ہو جانا ہے بجز خدا تعالیٰ اور صلحاء کے اور کسی سے جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ آمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلهِ ہے اور فرماتا ہے۔يَآتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَرَى اَوْلِيَاء سے اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ ہے یعنی یہود اور نصاری سے محبت مت کرو۔اور ہر ایک شخص جو صالح نہیں اس سے محبت مت کرو۔ان آیتوں کو پڑھ کر نادان عیسائی دھوکا کھاتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ عیسائی وغیرہ بے دین فرقوں سے محبت نہ کریں لیکن نہیں سوچتے کہ ہر یک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے۔جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اسی صورت میں بجالا نا متصور ہے کہ جب ان کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے۔نہایت سخت جاہل وہ شخص ہو گا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو۔ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ پیار اور محبت اسی کا نام ہے کہ اس شخص کے قول اور فعل اور عادت اور خُلق اور مذہب کو رضا کے رنگ میں دیکھیں اور اس پر خوش ہوں اور اس کا اثر اپنے دل پر ڈالیں اور ایسا ہونا مومن سے کافر کی نسبت ہرگز ممکن نہیں۔ہاں مومن کافر پر شفقت کرے گا۔اور تمام دقائق ہمدردی بجالائے گا اور اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کرو۔بھوکوں کو کھلاؤ۔غلاموں کو آزاد کرو۔قرضداروں کے قرض دو۔اور زیر باروں کے بار اٹھاؤ۔اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔اور فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ اِيْتَائِ ذِي الْقُرْبی ہے یعنی خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ عدل کرو۔اور عدل سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرو۔جیسے بچہ سے اس کی والدہ یا کوئی اور شخص محض قرابت کے جوش سے کسی کی ہمدردی کرتا ہے۔اور پھر فرماتا ہے۔لَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ البلد: ۱۸ البقرة: ١٦٦ المآئدة: ۵۲ ال عمران: ۱۱۹ ۵ النحل: ۹۱