حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 64
۶۴ ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمین کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۴۱) روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل آب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجمله برگ و بار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۴۴) وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے آب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۴۷) کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم یہی خطاب خوبوں کو بھی تم نے مسیحا بنا دیا ٹائٹل پیج فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳) یه سراسر فضل و احسان ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تُو نے اے مرے حاجت برار پینه اے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی تو میرے لئے مجھے کو نہیں تجھ بن بکار ہے میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار