حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 65
اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے غمگسار تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا در گہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے تا روز قیامت ہو شمار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۲۷) اس میں میرا جرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا کون ہوں تا رڈ کروں حکم شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۲۸)