حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 63

۶۳ باغ میں ملت کے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار مستانه وار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسماں بارد نشاں الوقت مے گوید زمیں این دو شاہد از پیئے من نعرہ زن چوں بے قرار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آئیں یہ دن اور غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے بہار وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار نیز ابراہیم ہوں اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب پر گر احمد جس میرا سب مدار نہ ہوتا نام (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۱ تا ۱۳۳) مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار