حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 614
۶۱۴ زکوۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کا مبدء اور منبع یہی احادیث ہی ہیں۔اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں ماننا چاہئے کہ در حقیقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے جن کو بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سے خلافت ملی اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی۔کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیا جاوے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہ سکیں۔اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہی ہوں اور دراصل نہ کوئی ابوبکر گذرا ہو نہ عمر نہ عثمان نہ علی۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبدالمطلب ہونا اور پھر آنحضرت صلعم کی بیویوں میں سے ایک کا خدیجہ اور ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حفصہ رضی اللہ منھن ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا۔اور غارِ حرا میں جا کر آنحضرت کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد بعثت دین سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام ونشان نہیں اور صرف احادیث سے یہ تمام امور ثابت ہوتے ہیں۔تو کیا ان تمام واقعات سے اس بنا پر انکار کر دیا جاوے کہ احادیث کچھ چیز نہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے ممکن نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سواخ میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں۔دیکھنا چاہئے کہ ہمارے مولیٰ وآقا کی سوانح کا وہ سلسلہ کہ کیونکر قبل از بعثت مکہ میں زندگی بسر کی اور پھر کس سال دعوت نبوت کی اور کس ترتیب سے لوگ داخل اسلام ہوئے اور کفار نے مکہ کے دس سال میں کس کس قسم کی تکلیفیں پہنچائیں اور پھر کیونکر اور کس وجہ سے لڑائیاں شروع ہوئیں اور کس قدرلڑائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر ہوئے اور آنجناب کے زمانہ زندگی تک کن کن ممالک تک حکومت اسلام پھیل چکی تھی۔اور شاہان وقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام کے خط لکھے تھے یا نہیں اور اگر لکھے تھے تو کیا ان کا نتیجہ ہوا تھا ؟ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے وقت کیا کیا فتوحات اسلام ہوئیں اور کیا کیا مشکلات پیش آئیں؟ اور حضرت فاروق کے زمانہ میں کن کن ممالک تک فتوحات اسلام ہوئیں۔یہ تمام امور صرف احادیث اور اقوالِ صحابہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتے