حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 613 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 613

۶۱۳ اور کفر ہو گا کہ ہم ایسی حدیثوں کی خاطر سے کہ جو انسان کے ہاتھوں سے ہم کو ملی ہیں اور انسانوں کی باتوں کا اُن میں ملنا نہ صرف احتمالی امر ہے بلکہ یقینی طور پر پایا جاتا ہے قرآن کو چھوڑ دیں !!! الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱) واضح ہو کہ احادیث کے دو حصہ ہیں۔ایک وہ حصہ جو سلسلۂ تعامل کی پناہ میں کامل طور پر آ گیا ہے۔یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قومی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔جس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور عقود اور معاملات اور احکام شرع متین داخل ہیں۔سوایسی حدیثیں تو بلا شبہ یقین اور کامل ثبوت کی حد تک پہونچ گئے ہیں اور جو کچھ ان حدیثوں کو قوت حاصل ہے وہ قوت فنِ حدیث کے ذریعہ حاصل نہیں ہوئی اور نہ وہ احادیث منقولہ کی ذاتی قوت ہے اور نہ وہ راویوں کے وثاقت اور اعتبار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ قوت برکت وطفیل سلسلہ تعامل پیدا ہوئی ہے۔سو میں ایسی حدیثوں کو جہاں تک اُن کو سلسلۂ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک تسلیم کرتا ہوں۔لیکن دوسرا حصہ حدیثوں کا جن کو سلسلہ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں ہے اور صرف راویوں کے سہارے سے اور اُن کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں ان کو میں مرتبہ ظن سے بڑھ کر خیال نہیں کرتا اور غایت کار مفید ظن ہو سکتی ہیں کیونکہ جس طریق سے وہ حاصل کی گئی ہیں وہ یقینی اور قطعی الثبوت طریق نہیں ہے بلکہ بہت سی آویزش کی جگہ ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۵) پس ایسا ہی صاحب معترض نے کسی سے سُن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں۔اور اس سے بلا توقف یہ نتیجہ پیدا کیا کہ بجز قرآن کریم کے اور جس قدر مسلماتِ اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد و مشکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصہ نہیں۔لیکن درحقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھو کہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے۔کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اور جھوٹھ اور افترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شاید اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہ جائے گا وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔مثلاً یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سنت ہیں اور پھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چار اور دوسنت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ایسا ہی