حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 615
۶۱۵ ہیں۔پھر اگر احادیث کچھ بھی چیز نہیں تو پھر اُس زمانہ کے حالات دریافت کرنا نہ صرف ایک امر مشکل بلکہ محالات میں سے ہو گا۔اور اس صورت میں واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت مخالفین کو ہر یک افترا کی گنجائش ہوگی اور ہم دشمنوں کو بے جا حملہ کرنے کا بہت سا موقعہ دیں گے۔اور ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو کچھ ان احادیث کے ذریعہ سے واقعات اور سوانح دریافت ہوتے ہیں وہ سب پیچ اور کالعدم ہیں۔یہاں تک کہ صحابہ کے نام بھی یقینی طور پر ثابت نہیں۔غرض ایسا خیال کرنا کہ احادیث کے ذریعہ سے کوئی یقینی اور قطعی صداقت ہمیں مل ہی نہیں سکتی۔گویا اسلام کا بہت سا حصہ اپنے ہاتھ سے نابود کرنا ہے بلکہ اصل اور صیح امر یہ ہے کہ جو کچھ احادیث کے ذریعہ سے بیان ہوا ہے جب تک صحیح اور صاف لفظوں میں قرآن اس کا معارض نہ ہو تب تک اس کو قبول کرنا لازم ہے۔کیونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ طبعی امر انسان کے لئے راست گوئی ہے اور انسان جھوٹ کو محض کسی مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتا ہے۔کیونکہ وہ اس کے لئے ایک غیر طبعی ہے۔پھر ایسی احادیث جو تعامل اعتقادی یا عملی میں آکر اسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار ٹھہر گئی تھیں اُن کی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔مثلاً آج اگر کوئی شخص یہ بحث کرے کہ یہ پہنچ نمازیں جو مسلمان پنجوقت ادا کرتے ہیں ان کی رکعات کی تعداد ایک شکی امر ہے۔کیونکہ مثلاً قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مذکور نہیں کہ تم صبح کی دورکعت پڑھا کرو۔اور پھر جمعہ کی دو اور عیدین کی بھی دو دو۔رہی احادیث تو وہ اکثر احاد ہیں جو مفید یقین نہیں۔تو کیا ایسی بحث کرنے والا حق پر ہو گا۔اگر احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے۔کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا کوئی نقشہ کھینچ کر نہیں دکھلایا صرف یہ نمازیں احادیث کی صحت کے بھروسہ پر پڑھی جاتی ہیں۔۔در حقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی دور ڈال دیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وہ تمام سُنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اور تواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں۔حالانکہ یہ اُن کی فاش غلطی ہے۔بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دنیا میں نام ونشان بھی نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ اس مقدس معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں۔