حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 612 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 612

۶۱۲ اعتراض کے وقت ان کتابوں اور ان شرائط سے باہر نہ جائے۔آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد ۰ اصفحہ ۸۷،۸۶) کتاب وسنت کے حج شرعیہ ہونے میں میرا یہ مذہب ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔جس امر میں احادیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جو کتاب اللہ کی نص بین سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہوسکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَأَيْتِهِ يُؤْمِنُونَ۔یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جائے اور منشا اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔پھر فرماتا ہے فباي فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ہے۔ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنے ہیں۔اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔سو آیات متذکرہ بالا کی رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شر طی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذہب ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد۴ صفحه ۱۲۱) جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے فہم قرآن عطا کرے اور تفہیم الہی سے وہ مشرف ہو جاوے اور اُس پر ظاہر کر دیا جائے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت سے فلاں حدیث مخالف ہے اور یہ علم اس کا کمال یقین اور قطعیت تک پہونچ جائے تو اس کے لئے یہی لازم ہو گا کہ حتی الوسع اول ادب کی راہ سے اس حدیث کی تاویل کر کے قرآن شریف سے مطابق کرے اور اگر مطابقت محالات میں سے ہو اور کسی صورت سے نہ ہو سکے تو بدرجہ نا چاری اس حدیث کے غیر صحیح ہونے کا قائل ہو۔کیونکہ ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم بحالت مخالفت قرآن شریف ، حدیث کی تاویل کی طرف رجوع کریں۔لیکن یہ سراسر الحاد الجاثية: الاعراف : ١٨٦