حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 611
۶۱۱ میں پیدا ہو گئے اُن میں سچے فرقے کو احادیث صحیحہ سے بہت فائدہ پہنچا۔پس مذہب اسلم یہی ہے کہ نہ تو اس زمانہ کے اہل حدیث کی طرح حدیثوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ قرآن پر وہ مقدم ہیں اور نیز اگر اُن کے قصے صریح قرآن کے بیانات سے مخالف پڑیں تو ایسا نہ کریں کہ حدیثوں کے قصوں کو قرآن پر ترجیح دی جاوے اور قرآن کو چھوڑ دیا جائے۔اور نہ حدیثوں کو مولوی عبد اللہ چکڑالوی کے عقیدہ کی طرح محض لغو اور باطل ٹھیرایا جائے بلکہ چاہئے کہ قرآن اور سنت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جائے اور جو حدیث قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسر و چشم قبول کیا جاوے۔یہی صراط مستقیم ہے۔مبارک وہ جو اس کے پابند ہوتے ہیں۔نہایت بد قسمت اور نادان وہ شخص ہے جو بغیر لحاظ اس قاعدہ کے حدیثوں کا انکار کرتا ہے۔ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۹ تا ۲۱۲) ہماری کتب مسلمه و مقبولہ جن پر ہم عقیدہ رکھتے ہیں اور جن کو ہم معتبر سمجھتے ہیں یہ تفصیل ذیل ہیں۔اول قرآن شریف۔مگر یادر ہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آ سکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسر ہو۔غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز نہیں۔پس ہر یک معترض پر لازم ہو گا کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے۔دوم دوسری کتا بیں جو ہماری مسلم کتابیں ہیں اون میں سے اول درجہ پر صحیح بخاری ہے اور اس کی وہ تمام احادیث ہمارے نزدیک حجت ہیں جو قرآن شریف سے مخالف نہیں۔اور ان میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے۔اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو۔اور تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی، ابن ماجه، موطا، نسائی، ابو داؤد، دارقطنی کتب حدیث ہیں۔جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں۔یہ کتابیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں اور یہ شرائط ہیں جن کی رُو سے ہمارا عمل ہے۔۔پس ہر یک معترض پر واجب ہو گا کہ کسی