حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 479

۴۷۹ ہو کر نہ کھایا۔اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کر کے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنا لیا۔جو اپنے اور خویش تھے ان کو بُت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بد اعمالیوں سے روکا۔حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا۔جس سے ان کا نہایت دل جل گیا۔اور سخت عداوت پر آمادہ ہو گئے۔اور ہر دم قتل کر دینے کی گھات میں رہنے لگے۔اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کر دیا گیا۔کیونکہ جیسا کہ اُن کا اعتقاد تھا حضرت عیسی کو نہ خدا، نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہو گئے۔کیونکہ ان کو بھی اُن کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی۔اور مدار نجات کا صرف تو حید ٹھہرائی گئی۔اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی؟ (براہین احمدیہ ہر چہار صص - روحانی خزائن جلد اصفحہ ۱۰۸، ۱۰۹) آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بہیم وامید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروانہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی۔اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دُکھ اور درد اُٹھانا ہو گا۔بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجالائے اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر تو گل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحہ ۱۱۲۱۱۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکہ میں گذری اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں ہم تو ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔دل کانپ اُٹھتا ہے جب اُن کا تصور کرتے ہیں۔اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی، فراخدلی ، استقلال اور عزم و استقامت کا پتہ لگتا ہے۔کیسا کوہ وقار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سُست اور غمگین نہیں ہوا۔۔