حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 480

۴۸۰ حبیب وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکیں۔بعض لوگ غلط انہی سے کہہ اُٹھتے ہیں کہ آپ تو خدا کے ب مصطفے اور مجتنے تھے پھر یہ مصیبتیں اور مشکلات کیوں آئیں؟ میں کہتا ہوں کہ پانی کے لئے جب تک زمین کو کھودا نہ جاوے اس کا جگر پھاڑا نہ جاوے وہ کب نکل سکتا ہے۔کتنے ہی گز گہرا زمین کو کھودتے چلے جائیں تب کہیں جا کر خوشگوار پانی نکلتا ہے جو مایۂ حیات ہوتا ہے۔اسی طرح وہ لذت جو خدا تعالیٰ کی راہ میں استقلال اور ثبات قدم کے دکھانے سے نہیں ملتی جب تک ان مشکلات اور مصائب میں سے ہو کر انسان نہ گذرے۔وہ لوگ جو اس کو چہ سے بے خبر ہیں وہ ان مصائب کی لذت سے کب آشنا ہو سکتے ہیں اور کب اسے محسوس کر سکتے ہیں۔انہیں کیا معلوم ہے کہ جب آپ کو کوئی تکلیف پہونچتی تھی اندر سے ایک سرور اور لذت کا چشمہ پھوٹ نکلتا تھا۔خدا تعالیٰ پر توکل ، اس کی محبت اور نصرت پر ایمان پیدا ہوتا تھا۔الحکم مورخه ۳۰ / جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۲ ۳۔ملفوظات جلد اول صفحه ۵۱۶، ۵۱۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر، بے زور، بے کس اُمی، یتیم ، تنہا، غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حُجَجِ وَاضِحَہ سے سب کی زبان بند کر دی۔اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا۔اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی؟ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائید الہی کے بھی ہوا کرتا ہے؟ خیال کرنا چاہئے کہ جب آنحضرت نے پہلے پہل مکے کے لوگوں میں منادی کی کہ میں نبی ہوں۔اُس وقت ان کے ہمراہ کون تھا اور رکس بادشاہ کا خزانہ ان کے قبضہ میں آ گیا تھا کہ جس پر اعتماد کر کے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی ٹھہر گئی؟ یا کون سی فوج اکٹھی کر لی تھی کہ جس پر بھروسہ کر کے تمام بادشاہوں کے حملوں سے امن ہو گیا تھا ؟ ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اُس وقت آنحضرت زمین پرا کیلے اور بے کس اور بے سامان تھے صرف اُن کے ساتھ خدا تھا جس نے ان کو ایک بڑے مطلب کے لئے پیدا کیا تھا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۲۰،۱۱۹) پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا۔اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے