حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 478
۴۷۸ آپ کی نبوت عامہ میں کوئی حصہ بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتدا سے تمام دنیا کے لئے ہے۔(لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶ ۲۰، ۲۰۷) اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربی اعظم ہے یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا کا اصلاح پذیر ہوا جس نے تو حید گم گشتہ اور نا پدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کر کے ہر یک گمراہ کے شبہات مٹائے۔جس نے ہر یک ملحد کے وسواس دور کئے اور سچا سامان نجات کا کہ جس کے لئے کسی بے گناہ کو پھانسی دینا ضروری نہیں اور خدا کو اپنی قدیمی اور ازلی جگہ سے کھسکا کر کسی عورت کے پیٹ میں ڈالنا کچھ حاجت نہیں اصول حقہ کی تعلیم سے از سر نو عطا فرمایا۔پس اس دلیل سے اس کا فائدہ اور افاضہ سب زیادہ ہے۔اس کا درجہ اور رتبہ بھی سب سے زیادہ ہے۔اب تواریخ بتلاتی ہے۔کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب نبیوں سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار تخصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۹۷ حاشیہ نمبر ۶) خیال کرنا چاہئے کہ کسی استقلال سے آنحضرت اپنے دعوائی نبوت پر باوجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے۔برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دُکھ اُٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا۔بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا۔اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلا لیا۔وطن سے نکالے گئے قتل کے لئے تعاقب کئے گئے۔گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہو گیا۔بار ہاز ہر دی گئی۔اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں۔اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔کوئی عمارت نہ بنائی۔کوئی بارگاہ طیارنہ ہوئی۔کوئی سامانِ شاہانہ عیش و عشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا بلکہ جو کچھ آیا وہ سب تیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا۔اور کبھی ایک وقت بھی سیر