حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 391

۳۹۱ تو کس راہ سے نکل جاتی ہے؟ کیا کوئی عاقل اس معمہ کو صرف اپنی ہی عقل کے زور سے کھول سکتا ہے؟ و ہم جتنے چاہو دوڑاؤ مگر مجرد عقل کے ذریعہ سے کوئی واقعی اور یقینی بات تو معلوم نہیں ہوتی۔پھر جبکہ پہلے ہی قدم میں یہ حال ہے تو پھر یہ ناقص عقل امور معاد میں قطعی طور پر کیا دریافت کر لے گی؟ ( براہین احمدیہ ہر چہار تخصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۳۶ تا ۳۳۸ حاشیہ نمبر۱۱) اُس حکیم مطلق نے انسان ضعیف البنیان کو اپنی ہی رائے اور قیاس پر چھوڑ نا نہیں چاہا بلکہ جس طور کے واعظوں اور متکلموں سے اس کی تسلی اور شقی ہو سکتی ہے اور اس کے جذبات نفسانی وب سکتے ہیں اور اُس کی روحانی بے قراریاں دُور ہو سکتی ہیں وہ سب متکلم اس کے لئے پیدا کئے ہیں اور جس کلام سے اس کی امراض و اعراض دُور ہو سکتی ہیں وہ کلام اس کے لئے مہیا کیا ہے۔یہ ثبوت ضرورت الہام کا کسی اور طرز سے نہیں بلکہ خدا کا ہی قانون قدرت اُسے ثابت کرتا ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا میں کروڑ ہا آدمی کہ جو مصیبت میں معصیت میں غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں ہمیشہ وہ دوسرے واعظ اور ناصح سے متاثر ہوا کرتے ہیں اور ہر جگہ اپنا ہی علم اور اپنے ہی خیالات ہرگز کافی نہیں ہوتے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جس قدر متکلم کی ذاتی عظمت اور وقعت سامع کی نظر میں ثابت ہو اسی قدر اس کا کلام تسلّی اور تشفی بخشتا ہے۔اسی شخص کا وعدہ موجب تسکین خاطر ہوتا ہے کہ جو سامع کی نظر میں صادق الوعد اور ایفائے وعدہ پر قادر بھی ہو۔اس صورت میں کون اس بد یہی بات میں کلام کر سکتا ہے کہ امور معاد اور ماوراء المحسوسات میں اعلی مرتبہ تسلی اور تشفی اور تسکین خاطر کا کہ جو جذبات نفسانی اور آلام روحانی کو دور کرنے والا ہوصرف خدا کے کلام سے حاصل ہو سکتا ہے۔اور قانونِ قدرت پر نظر ڈالنے سے اس سے عمده تر موجب تسلی و تشفی کا اور کوئی امر قرار نہیں پاسکتا۔جب کوئی آدمی خدا کے کلام پر پورا پورا ایمان لاتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی درمیان نہیں ہوتا تو خدا کا کلام اس کو بڑے بڑے گردابوں میں سے بچا لیتا ہے۔اور سخت سخت جذبات نفسانی کا مقابلہ کرتا ہے اور بڑے بڑے پر دہشت حادثوں میں صبر بخشتا ہے۔جب دانا انسان کسی مشکل یا جذ بہ نفسانی کے وقت میں خدا کے کلام میں وعد اور وعید پاتا ہے یا کوئی دوسرا اُسے سمجھاتا ہے کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے تو ا یکبارگی اُس سے ایسا متاثر ہو جاتا ہے کہ تو بہ پر تو بہ کرتا ہے۔انسان کو خدا کی طرف سے تسلی پانے کی بڑی بڑی حاجتیں پڑتی ہیں۔بسا اوقات وہ ایسی سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ اگر خدا کا کلام آیا نہ ہوتا اور اُس کو اپنی اس بشارت سے مطلع نہ کرتا۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ