حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 392
۳۹۲ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ - أُولَيكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ لے تو وہ بے حوصلہ ہو کر شاید خدا کے وجود سے ہی انکار کرتا اور یا نا اُمیدی کی حالت میں خدا سے بکلی رابطہ توڑ دیتا اور یا غموں کے صدمہ سے ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح جذبات نفسانی ایسے ہیں کہ جن کی کسر ثوران کے لئے خدا کے کلام کی ضرورت تھی اور قدم قدم میں انسان کو وہ امور پیش آتے ہیں جن کا تدارک صرف خدا کا کلام کر سکتا ہے۔جب انسان خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو صد ہا موانع اُس کو اس توجہ سے روکتے ہیں۔کبھی اس دنیا کی لذت یاد ہوتی ہے کبھی ہم مشربوں کی صحبت دامن کھینچتی ہے کبھی اس راہ کی تکالیف ڈراتی ہیں۔کبھی قدیمی عادات اور ملکات راسخہ سنگ راہ ہو جاتی ہیں کبھی تنگ کبھی نام کبھی ریاست کبھی حکومت اس راہ سے روکنا چاہتی ہے اور کبھی یہ سارے ایک لشکر کی طرح ایک جگہ فراہم ہو کر اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اپنے فوائد نقد کی خوبیاں پیش کرتے ہیں پس ان کے اتفاق اور اثر دہام میں ایک ایسا زور پیدا ہو جاتا ہے کہ خیالات خود تراشیدہ ان کی مدافعت نہیں کر سکتے بلکہ ایک دم بھی اُن کے مقابلہ پر ٹھہر نہیں سکتے۔ایسے جنگ کے موقعہ میں خدا کے کلام کی پُر زور بندوقیں درکار ہیں کہ تا مخالف کی صف کو ایک ہی فیر میں اڑا دیں۔کیا کوئی کام یک طرفہ بھی ہوسکتا ہے۔پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا ایک پتھر کی طرح ہمیشہ خاموش رہے اور بندہ وفاداری میں صدق میں صبر میں خود بخود بڑھتا جائے اور صرف یہی ایک خیال کہ آسمان اور زمین کا البتہ کوئی خالق ہو گا اُس کو ہمیشہ کی قوت دے کر عشق کے میدانوں میں آگے سے آگے کھینچتا چلا جائے خیالی باتیں واقعی باتوں کی ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتیں اور نہ کبھی ہوئیں مثلاً ایک مفلس قرضدار نے کسی راستباز دولتمند سے وعدہ پایا ہے کہ عین وقت پر میں تیرا گل قرضہ ادا کر دوں گا اور دوسرا ایک اور مفلس قرض دار ہے اُس کو کسی نے اپنی زبان سے وعدہ نہیں دیا وہ اپنے ہی خیالات دوڑاتا ہے کہ شاید مجھ کو بھی وقت پر رو پیل جائے۔کیا تسلی پانے میں یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ہرگز نہیں یہ سب قوانین قدرت ہی ہیں۔قوانین قدرت سے کون سی حقانی صداقت باہر ہے۔پر افسوس ان لوگوں پر کہ جو قوانین قدرت کی پابندی کا دعوی کرتے کرتے پھر انہیں تو ڑ کر دوسری طرف بھاگ گئے اور جو کچھ کہا تھا اُس کے برعکس عمل میں لائے۔البقرة :۱۵۷،۱۵۶ ( براہین احمدیہ ہر چہار تحصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۴۰ تا ۳۴۲ حاشیہ نمبر۱۱)