حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 390

۳۹۰ تڑپتا ہے اور جس کے حصول کا جوش اُس جان و جگر میں بھرا ہوا ہے اُس کے حصول سے اس دنیا میں اس کو بکلی پاس اور نا امیدی ہے۔کیا تم ہزار ہا لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہیں کہ اس بات کو سمجھے کہ جو معرفت کے دروازے صرف خدا کے کھولنے سے کھلتے ہیں وہ انسانی قوتوں سے کھل نہیں سکتے اور جو خدا کا آپ کہنا ہے کہ میں موجود ہوں اس سے انسانوں کے صرف قیاسی خیالات برابر نہیں ہو سکتے۔بلاشبہ خدا کا اپنے وجود کی نسبت خبر دینا ایسا ہے کہ گویا خدا کو دکھلا دیتا ہے مگر صرف قیاسا انسان کا کہنا ایسا نہیں ہے۔اور جبکہ خدا کے کلام سے کہ جو اس کے وجود خاص پر دلالت کرتا ہے ہمارے عقلی خیالات کسی طرح برابر نہیں ہو سکتے تو پھر تکمیل یقین کے لئے کیوں اس کے کلام کی حاجت نہیں؟ کیا اس صریح تفاوت کو دیکھنا تمہارے دل کو ذرا بھی بیدار نہیں کرتا؟ کیا ہمارے کلام میں کوئی بھی ایسی بات نہیں کہ جو تمہارے دل پر مؤثر ہو؟ اے لوگو! اس بات کے سمجھنے میں کچھ بھی دقت نہیں کہ عقل انسانی مغیبات کے جاننے کا آلہ نہیں ہو سکتی۔اور کون تم میں سے اس بات کا منکر ہوسکتا ہے کہ جو کچھ بعد فوت کے پیش آنے والا ہے وہ سب مغیبات میں ہی داخل ہے۔مثلاً تم سوچو کہ کسی کو واقعی طور پر کیا خبر ہے کہ موت کے وقت کیونکر انسان کی جان نکلتی ہے اور کہاں جاتی ہے اور کون ہمراہ لے جاتا ہے اور کس مقام میں ٹھہرائی جاتی ہے اور پھر کیا کیا معاملہ اس پر گذرتا ہے؟ ان سب باتوں میں عقل انسانی کیونکر قطعی فیصلہ کر سکے۔قطعی طور پر تو انسان تب فیصلہ کر سکتا ہے کہ جب ایک دو مرتبہ پہلے مر چکا ہوتا اور وہ راہیں اُسے معلوم ہوتیں جن راہوں سے خدا تک پہنچتا تھا اور وہ مقامات اُسے یاد ہوتے جن میں ایک عرصہ تک اس کی سکونت رہی تھی مگر اب تو ری انکلیں ہیں گو ہزار احتمال نکالو موقعہ پر جا کر تو کسی عاقل نے نہ دیکھا۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ ایسے بے بنیاد خیالات سے آپ ہی تسلی پکڑنا ایک طفل تسلی ہے حقیقی تسلی نہیں ہے۔اگر تم محققانہ نگاہوں سے دیکھو تو آپ ہی شہادت دو کہ انسان کی عقل اور اس کا کانشنس ان سب امور کو علی وجہ الیقین ہرگز دریافت نہیں کر سکتا۔اور صحیفہ قدرت کا کوئی صفحہ ان امور پر یقینی دلالت نہیں کرتا۔دُور دراز کی باتیں تو یک طرف رہیں اول قدم میں ہی عقل کو حیرانی ہے کہ روح کیا چیز ہے اور کیونکر داخل ہوتی اور کیونکر نکلتی ہے۔ظاہر اتو کچھ نکلتا نظر نہیں آتا اور نہ داخل ہوتا نظر آتا ہے اور اگر کسی جاندار کو وقت نزع جان کے کسی شیشہ میں بھی بند کر وتب بھی کوئی چیز نکلتی نظر نہیں آتی اور اگر بند شیشہ کے اندر کسی مادہ میں کیڑے پڑ جائیں تو ان روحوں کے داخل ہونے کا بھی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتا۔انڈے میں اس سے بھی زیادہ تعجب ہے کس راہ سے روح پرواز کر کے آتی ہے اور اگر بچہ اندر ہی مرجائے