حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 331

۳۳۱ خود کنی و خود کنانی کار را خود دہی رونق تو آن بازار را اے خاک را در یک دے چیزے کنی کز ظهورش خلق گیرد روشنی سے بر کسی چوں مہربانی سے کئی از زمینی آسمانی ے کنی سے (براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۶، ۶۲۷ حاشیه در حاشیہ نمبر۳) محبت تو دوائے ہزار بیماری است بروئے تو کہ رہائی درین گرفتاری است ۴ پناہ روئے تو جستن نہ طور مستان است که آمدن به پناہت کمال ہشیاری ست ۵ متاع مہر رُخ تو نہان نخواهم داشت کہ خفیه داشتن عشق تو ز غداری است 1 بر آن سرم که سر و جان فدائے تو بکنم که جان بسیار سپردن حقیقت یاری است که آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱) سخن نزدم مران از شهر یارے که هستم بر درے اُمید وارے A پروردگارے 2 خداوندے کہ جان بخش جهان است بدیع و خالق و کریم و قادر مشکل کشائے رحیم و محسن و حاجت برارے نا و فتادم بر درش زیر آنکه گویند برآید در جهان کارے ز کارے ا1 چو آن یار وفادار آیدم یاد فراموشم شود هر خویش و یارے ۱۲ لے تو آپ ہی کام کرتا ہے اور آپ ہی کرواتا ہے اور آپ ہی اس بازار کو رونق دیتا ہے۔سے مٹی کو تو یکدم ایک ( قیمتی) چیز بنا دیتا ہے تا کہ اس کے ظہور سے مخلوقات روشنی حاصل کرے۔ے جب تو کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے۔تیری محبت ہزار بیماریوں کی دوا ہے تیرے منہ کی قسم کہ اس گرفتاری ہی میں اصل آزادی ہے۔۵ تیری پناہ ڈھونڈ نا دیوانوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ تیری پناہ میں آنا ہی تو کمال درجہ کی عظمندی ہے۔میں تیری محبت کی دولت کو ہرگز نہیں چھپاؤں گا۔کہ تیرے عشق کا مخفی رکھنا بھی ایک غداری ہے۔کے میں تیار ہوں کہ جان و دل تجھ پر قربان کردوں کیونکہ جان کو محبوب کے سپرد کر دینا ہی اصل دوستی ہے۔میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک اور دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں۔2 وہ خدا جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور بدیع اور خالق اور پروردگار ہے۔ا کریم و قادر ہے اور مشکل کشا ہے۔رحیم ہے محسن ہے اور حاجت روا ہے۔لا میں اس کے دروازہ پر آپڑا ہوں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ دنیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام نکل آتا ہے۔جب وہ یار وفادار مجھے یاد آتا ہے تو ہر رشتہ دار اور دوست مجھے بھول جاتا ہے۔