حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 332
۳۳۲ بغیر او چسان بندم دل خویش کہ بے رویش نمی آید قرارے کے چگویم در سيين ریشم مجوسید نستیمش بدامان نگارے تے دل من دلبری را تخت گا ہے من در رہ یارے تارے ۳ فضل او برمن چگون است که فضل اوست نا پیدا کنارے کے عنایت ہائے او را چون شمارم که لطف اوست بیرون از شماری ۵ مرا کاریست با آن داستانی ندارد کس خبر زان کارو بارے 1 بنالم بر درش از انسان که نالد بوقت وضع حملے بار دارے کے مرا با عشق او وقتے ست مامور خوش وقتے خرم روزگاری A شابا گوییمت اے گلشن که فارغ کر دی از باغ و بہارے 2 یار (حجة الله - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۴۹) چہ شیریں منظری اے دلستانم چہ شیریں خصلتی اے جان جانم نا چو دیدم روئے تو دل در تو بستم نمانده غیر تو اندر جہانم !! عالم مگر ہجرت بسوزد استخوانم ۱۲ توان برداشتن دست از دو لے میں اسے چھوڑ کر کسی اور سے کس طرح دل لگاؤں کہ بغیر اس کے مجھے چین نہیں آتا۔ے دل کو مرے زخمی سینے میں نہ ڈھونڈ و کہ ہم نے اسے ایک محبوب کے دامن سے باندھ دیا ہے۔سے میرا دل دلبر کا تخت ہے اور میرا سر یار کی راہ میں قربان ہے۔ہے میں کیا بتاؤں کہ مجھ پر اس کا فضل کس طرح کا ہے کیونکہ اس کا فضل تو ایک نا پیدا کنارسمندر ہے۔میں اس کی مہر بانیوں کو کیونکر گنوں کہ اس کی مہربانیاں تو حد شمار سے باہر ہیں مجھے اس دلبر سے ایسا تعلق ہے کہ کسی کو بھی اس معاملہ کی خبر نہیں۔کے میں اس کے دروازے پر اس طرح روتا ہوں جس طرح بچہ پیدا ہوتے وقت حاملہ عورت روتی ہے۔میرا وقت اسی کے عشق سے بھر پور ہے واہ کیا اچھا وقت ہے اور کیا عمدہ زمانہ ہے۔اے یار کے گلزار تیرے کیا کہنے۔تو نے تو مجھے دنیا کے باغ و بہار سے بے پروا کر دیا۔ا اے میرے محبوب تو کیسا خوبصورت ہے اور اے میرے خدا تو کیسا شیر میں خصلت ہے۔جب میں نے تیرا منہ دیکھا تو تجھ سے دل لگا لیا اور دنیا میں تیرے سوا میرا کوئی نہ رہا۔دونوں جہان سے دست برداری ممکن ہے مگر تیرا فراق میری ہڈیاں تک جلا دیتا ہے۔