حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 330

۳۳۰ اے خدا اے چارہ آزار ما اے علاج گریہ ہائے زار مال اے تو مرہم بخش جان ریش ما اے تو دلدار دل غم کیش ما ۲ از کرم برداشتی هر بار ما و از تو حافظ و ستاری از جود و کرم عاجزی را ہر بار و بر اشجار ما سے بے کسان را یاری از لطف اتم سے بنده در مانده باشد دل طپان نا گهان درمان برآری از میان ۵ ظلمت گیرد براه نا گہان آری برد صد مهر و ماه ۲ حسن و خلق دلبری بر تو تمام صحبتی بعد از لقائے تو حرام کے آن خرد مندے که او دیوانه ات شمع بزم است آنکه او پروانه ات A ہر کہ هر که عشقت در دل و جانش فتد نا گہان جانے ایمانش فتد 2 عشق تو گردد عیاں بر روئے او ہوئے تو آید ز بام و کوئے او نا صد ہزاران نعمتش بخشی از جود مهر و مه را پیشش آری در سجود الله خود نشینی از پیئے تائید او در او دید روئے تو یاد اوفتد از بس نمایان کا رہا کاندر جہان می نمائی بیر اکرامش عیان ۱۳ لے اے خدا !اے ہمارے دکھوں کی دوا۔اور اے ہماری گریہ وزاری کا علاج۔تو ہماری زخمی جان پر مرہم رکھنے والا ہے۔اور تو ہمارے غمزدہ دل کی دلداری کرنے والا ہے۔سے تو نے اپنی مہربانی سے ہمارے سب بوجھ اٹھا لیے ہیں اور ہمارے درختوں پر میوہ اور پھل تیرے فضل سے ہے۔تو ہی مہربانی اور عنایت سے ہمارا محافظ اور پردہ پوش ہے اور کمال مہربانی سے بے کسوں کا ہمدرد ہے۔جب بندہ مغموم اور درماندہ ہو جاتا ہے تو تو وہیں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا ہے۔جب کسی عاجز کو رستے میں اندھیرا گھیر لیتا ہے تو تو یکدم اس کے لیے سینکڑوں سورج اور چاند پیدا کر دیتا ہے۔کے حسن واخلاق اور دلبری تجھ پرختم ہیں تیری ملاقات کے بعد پھر کسی سے تعلق رکھنا حرام ہے۔وہ عقلمند ہے جو ترادیوانہ ہے اور وہ شمع بزم ہے جو تیرا پروانہ ہے۔ہر وہ شخص جس کے جان و دل میں تیرا عشق داخل ہو جائے تو اس کے ایمان میں فوراً جان پڑ جاتی ہے۔نا تیرا عشق اس کے چہرہ پر ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کے درودیوار سے تیری خوشبو آتی ہے۔لے تو اس کو اپنے کرم سے لاکھوں نعمتیں بخشتا ہے سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ کرواتا ہے۔تو اس کی نصرت کے لیے خود تیار ہو جاتا ہے اور اس کے دیدار سے تیرا چہرہ یاد آتا ہے۔اس جہاں میں بہت سے نمایاں کام تو اس کی عزت کے لیے ظاہر کرتا ہے۔