حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 262

۲۶۲ احسان اور حسن سے تمتع اٹھایا ہو اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ احسان سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو کسی انسان نے اپنی ذات کی نسبت بچشم خود دیکھے ہوں مثلاً بیکسی اور عاجزی اور کمزوری اور یتیمی کے وقت میں خدا اس کا متوتی ہوا ہو۔اور حاجتوں اور ضرورتوں کے وقت میں خدا نے خود اس کی حاجت براری کی ہو اور سخت اور کمرشکن غموں کے وقت میں خدا نے خود اس کو مدد کی ہو اور خدا کی طلبی کے وقت میں بغیر توسط کسی مرشد اور ہادی کے خود خدا نے اس کو رہنمائی کی ہو اور حسن سے مراد بھی خدا تعالیٰ کی وہی صفاتِ حسنہ ہیں جو احسان کے رنگ میں ملاحظہ ہوتی ہیں مثلاً خدا کی قدرت کاملہ اور رفق اور وہ لطف اور وہ ربوبیت اور وہ رحم جو خدا میں پایا جاتا ہے اور وہ عام ربوبیت اس کی جو مشاہدہ ہو رہی ہے اور وہ عام نعمتیں اس کی جو انسانوں کے آرام کے لئے بکثرت موجود ہیں اور وہ علم اس کا جس کو انسان نبیوں کے ذریعہ سے حاصل کرتا اور اس کے ذریعہ سے موت اور تباہی سے بچتا ہے اور اس کی یہ صفت کہ وہ بے قراروں اور در ماندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔اور اُس کی یہ خوبی کہ جولوگ اس کی طرف جھکتے ہیں وہ اُن سے زیادہ ان کی طرف جھکتا ہے یہ تمام صفات خدا کی اس کے حسن میں داخل ہیں اور پھر وہی صفات ہیں کہ جب ایک شخص خاص طور پر اُن سے فیضیاب بھی ہو جاتا ہے تو وہ اس کی نسبت احسان بھی کہلاتی ہیں گو دوسرے کی نسبت فقط حسن میں داخل ہیں۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ان صفات کو جو درحقیقت اس کا حسن اور جمال ہے احسان کے رنگ میں بھی دیکھ لیتا ہے تو اس کا ایمان نہایت درجہ قوی ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی طرف ایسا کھنچا جاتا ہے جیسا کہ ایک لوہا آہن ربا کی طرف کھنچا جاتا ہے۔اس کی محبت خدا سے بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا بھروسہ خدا پر بہت قوی ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اس بات کو آزما لیتا ہے جو اس کی تمام بھلائی خدا میں ہے اس لئے اُس کی اُمید میں خدا پر نہایت مضبوط ہو جاتی ہیں اور وہ طبعا نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے خدا کی طرف جھکا رہتا ہے اور اپنے تئیں ہر دم خدا سے مدد پانے کا محتاج دیکھتا ہے اور اس کی ان صفات کا ملہ کے تصور سے یقین رکھتا ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہوگا کیونکہ خدا کے فیض اور کرم اور جود کے بہت سے نمونے اس کا چشم دید مشاہدہ ہوتا ہے۔اس لئے اس کی دعا ئیں قوت اور یقین کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور اس کا عقدِ ہمت نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے اور آخر کار بمشاہدہ آلاء اور نعماء الہی کے نور یقین بہت زور کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اس کی ہستی بکلی جل جاتی ہے اور بباعث کثرت تصور عظمت اور قدرت الہی کے اُس کا دل خدا کا گھر ہو جاتا ہے اور جس طرح انسان کی روح اس کے زندہ ہونے کی حالت میں کبھی اُس کے جسم سے جدا