حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 263
۲۶۳ نہیں ہوتی اسی طرح خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے جو یقین اس کے اندر داخل ہوا ہے وہ کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہوتا اور ہر وقت پاک رُوح اس کے اندر جوش مارتی رہتی ہے اور اسی پاک رُوح کی تعلیم سے وہ بولتا اور حقائق اور معارف اس کے اندر سے نکلتے ہیں اور خدائے ذُو العِزَّتِ وَ الجَبُرُوت کی عظمت کا خیمہ ہر وقت اس کے دل میں لگا رہتا ہے اور یقین اور صدق اور محبت کی لذت ہر وقت پانی کی طرح اس کے اندر بہتی رہتی ہے جس کی آبپاشی سے ہر یک عضو اس کا سیراب نظر آتا ہے۔آنکھوں میں ایک جدا سیرابی مشہود ہوتی ہے۔پیشانی پر الگ ایک نو ر اس سیرابی کا لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور چہرہ پر محبت الہی کی ایک بارش برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اور زبان بھی اس نور کی سیرابی سے پورا حصہ لیتی ہے۔اسی طرح تمام اعضا پر ایک ایسی شگفتگی نظر آتی ہے جیسا کہ ابر بہار کے برسنے کے بعد موسم بہار میں ایک دلکش تازگی درختوں کی ٹہنیوں اور پتوں اور پھولوں اور پھلوں میں محسوس ہوتی ہے۔لیکن جس شخص میں یہ روح نہیں اُتری اور یہ سیرابی اس کو حاصل نہیں ہوئی۔اس کا تمام جسم مردار کی طرح ہوتا ہے اور یہ سیرابی اور تازگی اور شگفتگی جس کی قلم تشریح نہیں کر سکتی یہ اُس مردار دل کو مل ہی نہیں سکتی جس کو نور یقین کے چشمہ نے شاداب نہیں کیا بلکہ ایک طرح کی سڑی ہوئی بد بو اس سے آتی ہے۔مگر وہ شخص جس کو یہ نور دیا گیا ہے اور جس کے اندر یہ چشمہ پھوٹ نکلا ہے اس کی علامات سے یہ ایک علامت ہے کہ اس کا جی ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ ہر یک بات میں اور ہر یک قول میں اور ہر یک فعل میں خدا سے قوت پاوے اسی میں اس کی لذت ہوتی ہے اور اسی میں اس کی راحت ہوتی ہے۔وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔( عصمت انبیاء علیہم السلام۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۶۸ تا ۶۷۱ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن) کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے ایک کمال حسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچ جائیں۔اور رُوح کے جوش اور کشش سے اس کی بندگی کریں۔اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔سواسی غرض سے اس سورۃ کو الحمد للہ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت