حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 261
۲۶۱ محتاج ہونا ایک نقصان ہے اور خدا ہر یک نقصان سے پاک ہے وہ تو غنی اور بے نیاز ہے جس کو کسی کی حاجت نہیں۔جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔کیا تم خدا پر ایسا بہتان لگاتے ہو جس کی تائید میں تمہارے پاس کسی نوع کا علم نہیں۔خدا کیوں بیٹوں کا محتاج ہونے لگا۔وہ کامل ہے اور فرائضِ الوہیت کے ادا کرنے کے لئے وہ ہی اکیلا کافی ہے کسی اور منصوبہ کی حاجت نہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹیاں رکھتا ہے حالانکہ وہ ان سب نقصانوں سے پاک ہے۔کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں؟ یہ تو ٹھیک ٹھیک تقسیم نہ ہوئی۔اے لوگو! تم اس خدائے واحد لاشریک کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا۔چاہئے کہ تم اس قادر توانا سے ڈرو جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو تمہارے لئے چھت بنایا۔اور آسمان سے پانی اُتار کر طرح طرح کے رزق تمہارے لئے پھلوں میں سے پیدا کئے۔سو تم دیدہ و دانستہ انہیں چیزوں کو خدا کا شریک مت ٹھہراؤ جو تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔خدا ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔وہی آسمان میں خدا ہے اور وہی زمین میں خدا۔وہی اول ہے اور وہی آخر۔وہی ظاہر ہے وہی باطن۔آنکھیں اُس کی گنہ دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور اس کو آنکھوں کی گنہ معلوم ہے۔وہ سب کا خالق ہے اور کوئی چیز اس کی مانند نہیں۔اور اُس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر یک چیز کو ایک انداز ہ مقرری میں محصور اور محدود پیدا کیا ہے۔جس سے وجود اس ایک حاصر اور محدّد کا ثابت ہوتا ہے۔اس کے لئے تمام محامد ثابت ہیں اور دنیا و آخرت میں وہی منعم حقیقی ہے۔اور اسی کے ہاتھ میں ہر ایک حکم ہے اور وہی تمام چیزوں کا مرجع و مآب ہے۔خدا ہر ایک گناہ کو بخش دے گا جس کے لئے چاہے گا پر شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا۔سو جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اُسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فساد نہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں شریک نہ کرے۔تو خدا کے ساتھ کسی دوسری چیز کو ہرگز شریک مت ٹھہراؤ۔خدا کا شریک ٹھہرانا سخت ظلم ہے۔تو بجز خدا کے کسی اور سے مُرادیں مت مانگ، سب ہلاک ہو جائیں گے۔ایک اس کی ذات باقی رہ جاوے گی۔اُسی کے ہاتھ میں حکم ہے اور وہی تمہارا مرجع ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار حص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۱۵ تا ۵۲۱ حاشیه در حاشیه نمبر۳) خدا کا قانونِ قدرت اور ایسا ہی صحیفہ فطرت جس کا سلسلہ قدیم سے اور انسان کی بنیاد کے وقت سے چلا آتا ہے۔وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق شدید پیدا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے