حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 210

۲۱۰ حساب خدا کے سپرد کرنا چاہئے۔اس کے بارہ میں ہم کلام نہیں کر سکتے۔وہ اُن انسانوں کی طرح ہے جو خوردسالی اور بچپن میں مر جاتے ہیں مگر ایک شریر مکذب یہ عذر نہیں کر سکتا کہ میں نیک نیتی سے تکذیب کرتا ہوں۔دیکھنا چاہئے کہ اُس کے حواس اس لائق ہیں یا نہیں کہ مسئلہ تو حید اور رسالت کو سمجھ سکے۔اگر معلوم ہوتا ہے کہ سمجھ سکتا ہے مگر شرارت سے تکذیب کرتا ہے تو وہ کیونکر معذور رہ سکتا ہے۔اگر کوئی آفتاب کی روشنی کو دیکھ کر یہ کہے کہ دن نہیں بلکہ رات ہے تو کیا ہم اس کو معذور سمجھ سکتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ دانستہ کج بحثی کرتے ہیں اور اسلام کے دلائل کو تو ڑ نہیں سکتے کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ معذور ہیں۔اور اسلام تو ایک زندہ مذہب ہے۔جو شخص زندہ اور مردہ میں فرق کر سکتا ہے وہ کیوں اسلام کو ترک کرتا اور مردہ مذہب کو قبول کرتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۸۱،۱۸۰) میں جب خدا کے پاک کلام پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیونکر اس نے اپنی تعلیموں میں انسان کو اس کی طبعی حالتوں کی اصلاح کے قواعد عطا فرما کر پھر آہستہ آہستہ اوپر کی طرف کھینچا ہے اور اعلیٰ درجہ کی رُوحانی حالت تک پہونچانا چاہا ہے تو مجھے یہ پر معرفت قاعدہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اول خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست برخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلی بخش کر ایک ادنی درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں سکھلا دے۔پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاق رذیلہ کہہ سکتے ہیں اعتدال پر لاوے تا وہ اعتدال پا کر اخلاق فاضلہ کے رنگ میں آجائیں۔مگر یہ دونوں طریقے دراصل ایک ہی ہیں۔کیونکہ طبعی حالتوں کی اصلاح کے متعلق ہیں۔صرف اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ کے فرق نے ان کو دو قسم بنا دیا ہے۔اور اس حکیم مطلق نے اخلاق کے نظام کو ایسے طور سے پیش کیا ہے کہ جس سے انسان ادنی خلق سے اعلیٰ خلق تک ترقی کر سکے۔اور پھر تیسرا مرحلہ ترقیات کا یہ رکھا ہے کہ انسان اپنے خالق حقیقی کی محبت اور رضا میں محو ہو جائے اور سب وجود اس کا خدا کے لئے ہو جائے۔یہ وہ مرتبہ ہے جس کو یاد دلانے کے لئے مسلمانوں کے دین کا نام اسلام رکھا گیا ہے کیونکہ اسلام اس بات کو کہتے ہیں کہ بکنی خدا کے لئے ہو جانا اور اپنا کچھ باقی نہ رکھنا۔اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلده اصفه ۳۲۴) یہ خیال ایک سخت نادانی ہے کہ دین صرف چند بے سروپا باتوں کا نام ہے جو انجیل میں درج ہیں بلکہ