حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 209

۲۰۹ اجتماع سے سچے مذہب کی روشنی کمال تک پہنچ جاتی ہے۔اور اگر چہ سچاند ہب ہزار ہا آثار اور انوار اپنے اندر رکھتا ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں بغیر حاجت کسی اور دلیل کے طالب حق کے دل کو یقین کے پانی سے سیراب کر دیتی ہیں۔اور مکڈبوں پر پورے طور پر اتمام حجت کرتی ہیں۔اس لئے ان دو قسم کی دلیلوں کے موجود ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیتِ اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزار ہانشانوں کے قائم مقام ہیں۔پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ دیبا چه صفحه ۳ تا ۶) خدا نے اپنے رسول نبی کریم کی اتمام حجت میں کسر نہیں رکھی۔وہ ایک آفتاب کی طرح آیا اور ہر ایک پہلو سے اپنی روشنی ظاہر کی۔پس جو شخص اس آفتاب حقیقی سے منہ پھیرتا ہے اس کی خیر نہیں۔ہم اس کو نیک نیت نہیں کہہ سکتے۔کیا جو شخص مجزوم ہے اور جذام نے اس کے اعضاء کھا لئے ہیں وہ کہہ سکتا ہے کہ میں مجزوم نہیں یا مجھے علاج کی حاجت نہیں اور اگر کہے تو کیا ہم اُس کو نیک نیت کہہ سکتے ہیں۔ماسوا اس کے اگر فرض کے طور پر کوئی ایسا شخص دنیا میں ہو کہ وہ با وجود پوری نیک نیتی اور ایسی پوری پوری کوشش کے کہ جیسا کہ وہ دنیا کے حصول کے لئے کرتا ہے اسلام کی سچائی تک پہنچ نہیں سکا تو اس کا حساب خدا کے پاس ہے۔مگر ہم نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی آدمی دیکھا نہیں۔اس لئے ہم اس بات کو قطعا محال جانتے ہیں کہ کوئی شخص عقل اور انصاف کی رو سے کسی دوسرے مذہب کو اسلام پر ترجیح دے سکے۔نادان اور جاہل لوگ نفس امارہ کی تعلیم سے ایک بات سیکھ لیتے ہیں کہ صرف تو حید کافی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ضرورت نہیں۔مگر یادر ہے کہ تو حید کی ماں نبی ہی ہوتا ہے جس سے تو حید پیدا ہوتی ہے اور خدا کے وجود کا اوس سے پتہ لگتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ اتمام حجت کون جانتا ہے۔اس نے اپنے نبی کریم کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کو نشانوں سے بھر دیا ہے۔اور اب اس زمانہ میں بھی خدا نے اس ناچیز خادم کو بھیج کر ہزار ہانشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے ظاہر فرمائے ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں۔تو پھر اتمام حجت میں کون سی کسر باقی ہے۔جس شخص کو مخالفت کرنے کی عقل ہے۔وہ کیوں موافقت کی راہ کو سوچ نہیں سکتا؟ اور جو رات کو دیکھتا ہے کیوں اوس کو روزِ روشن میں نظر نہیں آتا؟ حالانکہ تکذیب کی راہوں کی نسبت تصدیق کی راہ بہت سہل ہے ہاں جو شخص مسلوب العقل کی طرح ہے اور انسانی قوتوں سے کم حصہ رکھتا ہے۔اس کا