حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 211
۲۱۱ وہ تمام امور جو تکمیل انسانیت کے لئے ضروری ہیں دین میں داخل ہیں۔جو باتیں انسان کو وحشیانہ حالت سے پھیر کر حقیقی انسانیت سکھلاتی یا عام انسانیت سے ترقی دے کر حکیمانہ زندگی کی طرف منتقل کرتی ہیں اور یا حکیمانہ زندگی سے ترقی دے کر فنا فی اللہ کی حالت تک پہنچاتی ہیں انہی باتوں کا نام دوسرے لفظوں میں دین ہے۔( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۹) اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انجیل انسانیت کے درخت کی پورے طور پر آبپاشی نہیں کر سکتی۔ہم اس مسافر خانہ میں بہت سے قومی کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔اور ہر ایک قوت چاہتی ہے کہ اپنے موقعہ پر اس کو استعمال کیا جائے۔اور انجیل صرف ایک ہی قوت حلم اور نرمی پر زور مار رہی ہے۔حلم اور عفو در حقیقت بعض مواضع میں اچھی ہے لیکن بعض دوسرے مواضع میں سَم قَاتِل کی تاثیر رکھتی ہے۔ہماری یہ تمدنی زندگی کہ مختلف طبائع کے اختلاط پر موقوف ہے بلاشبہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قوی کو حل بینی اور موقعہ شناسی سے استعمال کیا کریں۔کیا یہ سچ نہیں کہ اگر چہ بعض جگہ ہم عفو اور درگذر کر کے اس شخص کو فائدہ جسمانی اور روحانی پہنچاتے ہیں جس نے ہمیں کوئی آزار پہنچایا ہے لیکن بعض دوسری جگہ ایسی بھی ہیں جو اس جگہ ہم اس خصلت کو استعمال کرنے سے شخص مجرم کو اور بھی مفسدانہ حرکات پر دلیر کرتے ہیں۔ہماری روحانی زندگی کی طرز ہماری جسمانی زندگی کی طرز سے نہایت مشابہ ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ ایک ہی مزاج اور طبیعت کی اغذیہ اور ادویہ پر زور مارنے سے ہماری صحت بحال نہیں رہ سکتی۔اگر ہم دس یا بیس روز متواتر ٹھنڈی چیزوں کے کھانے پر ہی زور دیں اور گرم غذاؤں کا کھانا حرام کی طرح اپنے نفس پر کر دیں تو ہم جلد تر کسی سرد بیماری میں جیسے فالج اور لقوہ اور رعشہ اور صرع وغیرہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔اور ایسا ہی اگر ہم متواتر گرم غذاؤں پر زور دیں یہاں تک کہ پانی بھی گرم کر کے ہی پیا کریں تو بلاشبہ کسی مرض حار میں گرفتار ہو جائیں گے۔سوچ کر دیکھ لو کہ ہم اپنے جسمانی تمدن میں کیسے گرم اور سرد اور نرم اور سخت اور حرکت اور سکون کی رعایت رکھتے ہیں اور کیسی یہ رعایت ہماری صحت بدنی کے لئے ضروری پڑی ہوئی ہے۔پس یہی قاعدہ صحت روحانی کے لئے برتنا چاہئے۔خدا نے کسی بری قوت کو ہمیں نہیں دیا۔اور در حقیقت کوئی بھی قوت بری نہیں صرف اس کی بد استعمالی بُری ہے مثلا تم دیکھتے ہو کہ حسد نہایت ہی بُری چیز ہے لیکن اگر ہم اس قوت کو بُرے طور پر استعمال نہ کریں تو یہ صرف اس رشک کے رنگ میں آ جاتی ہے جس کو عربی میں غبطہ کہتے ہیں۔یعنی کسی کی اچھی حالت دیکھ کر خواہش کرنا کہ