حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 101
1+1 قادر اور غالب خدا کو چھوڑ کر اس کی جگہ کس کو قبول کرلوں۔میں اپنے پورے یقین سے جانتا ہوں کہ خدا وہی قادر خدا ہے جس نے میرے پر تجلی فرمائی اور اپنے وجود سے اور اپنے کلام اور اپنے کام سے مجھے اطلاع دی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ قدرتیں جو میں اس سے دیکھتا ہوں اور وہ علم غیب جو میرے پر ظاہر کرتا ہے۔اور وہ قوی ہاتھ جس سے میں ہر خطرناک موقع پر مدد پاتا ہوں۔وہ اُسی کامل اور بچے خدا کی صفات ہیں جس نے آدم کو پیدا کیا اور جو نوح پر ظاہر ہوا اور طوفان کا معجزہ دکھلایا۔وہ وہی ہے جس نے موسیٰ کو مدد دی جبکہ فرعون اس کو ہلاک کرنے کو تھا۔وہ وہی ہے جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سید الرسل کو کافروں اور مشرکوں کے منصوبوں سے بچا کر فتح کامل عطا فرمائی۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۹۶ تا ۲۹۸) حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔اُس نور کی ہر ایک نجات کے خواہشمند کو ضرورت ہے۔کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات نہیں۔جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔خدا کا قول ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْى اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں۔منور کروں گا یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا۔یہاں تک کہ سب عظمتیں اُن کی نگاہ میں بیچ ہو جائیں گی۔یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں۔پس میری روح بول اُٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں۔فرضی تجویز ہیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا۔ہم نے اُس خدا کی آواز سنی اور اُس کے پر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔سو ہم بصیرت کی راہ سے ا بنی اسرائیل :۷۳