حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 102
اُس دین اور اُس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں۔ہم نے اس نور حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پر دے اُٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے در حقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا با ہر آ جاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۵) آج میں نے اتمام حجت کے لئے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں۔تا قیامت کو میری طرف سے حضرت احدیت میں یہ حجت ہو کہ میں جس امر کے لئے بھیجا گیا تھا اس کو میں نے پورا کیا۔سواب میں بکمال ادب و انکسار حضرات علماء مسلمانان و علماء عیسائیان و پنڈتان و هندوان و آریان یہ اشتہار بھیجتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ میں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم حضرت عیسی علیہ السلام کے قدم پر ہے انہی معنوں سے میں مسیح موعود کہلاتا ہوں۔کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں پھیلاؤں۔میں اس بات کا مخالف ہوں کہ دین کے لئے تلوار اٹھائی جائے اور مذہب کے لئے خدا کے بندوں کے خون کئے جائیں۔اور میں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے ان تمام غلطیوں کو مسلمانوں سے دُور کر دوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راستبازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلاؤں۔میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور نا انصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدا اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا۔اور سچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اُس سے تعلق پیدا کرنا اور کچی برکات اُس سے پانا۔پس اس