حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 100

آقا اور اپنے مالک کے حکم سے سرکش ہو جاؤں۔کیا کروں مجھے ایسی حالت سے ہزار دفعہ مرنا بہتر ہے کہ وہ جو اپنے حسن و جمال کے ساتھ میرے پر ظاہر ہوا ہے میں اُس سے برگشتہ ہو جاؤں۔یہ دنیا کی زندگی کب تک اور یہ دنیا کے لوگ مجھ سے کیا وفاداری کریں گے تا میں اُن کے لئے اُس یار عزیز کو چھوڑ دوں۔میں خوب جانتا ہوں کہ میرے مخالفوں کے ہاتھ میں محض ایک پوست ہے جس میں کیڑا لگ گیا ہے۔وہ مجھے کہتے ہیں کہ میں مغز کو چھوڑ دوں اور ایسے پوست کو میں بھی اختیار کر لوں۔مجھے ڈراتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں لیکن مجھے اسی عزیز کی قسم ہے جس کو میں نے شناخت کر لیا ہے کہ میں ان لوگوں کی دھمکیوں کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا مجھے اس کے ساتھ تم بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسرے کے ساتھ خوشی ہو۔مجھے اس کے ساتھ موت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ اس کو چھوڑ کر لمبی عمر ہو۔جس طرح آپ لوگ دن کو دیکھ کر اس کو رات نہیں کہہ سکتے۔اسی طرح وہ نور جو مجھ کو دکھایا گیا میں اس کو تاریکی نہیں خیال کر سکتا اور جب کہ آپ اپنے ان عقائد کو چھوڑ نہیں سکتے جو صرف شکوک اور تو ہمات کا مجموعہ ہے تو میں کیونکر اُس راہ کو چھوڑ سکتا ہوں جس پر ہزار آفتاب چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔کیا میں مجنوں یا دیوانہ ہوں کہ اس حالت میں جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے روشن نشانوں کے ساتھ حق دکھا دیا ہے۔پھر بھی میں حق کو قبول نہ کروں۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزار ہا نشان میرے اطمینان کے لئے میرے پر ظاہر ہوئے ہیں جن میں سے بعض کو میں نے لوگوں کو بتایا اور بعض کو بتایا بھی نہیں اور میں نے دیکھا کہ یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کوئی دوسرا بجز اس وَحْدَهُ لا شَریک کے اُن پر قادر نہیں۔اور مجھ کو ماسوا اس کے علیم قرآن دیا گیا اور احادیث کے صحیح معنے میرے پر کھولے گئے۔پھر میں ایسی روشن راہ کو چھوڑ کر ہلاکت کی راہ کیوں اختیار کروں؟ جو کچھ میں کہتا ہوں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں اور جو کچھ آپ لوگ کہتے ہیں وہ صرف ظن ہے۔اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک اندھا ایک اونچی نیچی زمین میں تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ کہاں قدم پڑتا ہے سوئیں اس روشنی کو چھوڑ کر جو مجھ کو دی گئی ہے تاریکی کو کیونکر لے لوں جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا میری دُعائیں سنتا اور بڑے بڑے نشان میرے لئے ظاہر کرتا اور مجھ سے ہم کلام ہوتا اور اپنے غیب کے اسرار پر مجھے اطلاع دیتا ہے اور دشمنوں کے مقابل پر اپنے قومی ہاتھ کے ساتھ میری مدد کرتا ہے اور ہر میدان میں مجھے فتح بخشتا ہے اور قرآن شریف کے معارف اور حقائق کا مجھے علم دیتا ہے تو میں ایسے النجم : ٢٩