مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 73

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم نوردین اعظم M طفلی و عنفوان شباب ۵۱۲۵۸ یا ۱۸۴۱ ء یا سمت ۹۸ بکرمی کے قریب میرا تولد کا زمانہ ہے۔ابتدا میں میں نے اپنی ماں کی گود میں قرآن کریم پڑھا ہے اور انہیں سے پنجابی زبان میں فقہ کی کتابیں پڑھیں اور سنیں۔کچھ حصہ قرآن شریف کا والد صاحب سے بھی پڑھا مگر وہ عدیم الفرصت تھے پھر مجھے بسبب ان تعلقات کے جو لاہور میں تھے (اور وہ یہ تھے کہ ہمارا ایک مطبع قادری نام کابلی مل کی حویلی میں تھا ) ۷۰ ہجری کے قریب لاہور میں آنا پڑا۔یہاں آکر مجھے خناق کا مرض ہوا اور حکیم غلام دستگیر لاہوری ساکن سید مٹھا( جن کا تعلق میرے بھائیوں سے بہت تھا اور میرے بھائی طب میں ان کے شاگر د بھی تھے۔میرا علاج کرتے تھے۔اس وقت اگر چہ طبی تعلیم کی تحریک میرے دل میں پیدا ہوئی مگر میرے بھائی صاحب نے مجھے منشی محمد قاسم کشمیری کے پاس فارسی کی تکمیل کے لئے سپرد کیا۔انہوں نے مجھ پر بہت محنت کی۔بڑی مہربانی سے رزم اور بزم اور بہار یہ مضامین لکھ دیتے اور مجھ سے لکھواتے۔میرزا امام و سروی کے سپرد اس لئے کیا کہ میں خوش خطی سیکھوں مگر مجھ کو فارسی زبان سے کوئی دلچسپی پیدا نہ ہوئی اور میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ایک بڑا وقت ایسی زبان کے سیکھنے میں خرچ کرنا پڑا جس کے ساتھ بلحاظ دین اور ضرورت سلطنت مجھ کو کچھ بھی دلچسپی نہ تھی مگر اس میں میرے بھائیوں کا بھی قصور نہیں معلوم ہو تا کیونکہ اس وقت کی موجودہ حالت کسی جدید تحریک کا باعث بن ہی