مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 74
نہیں سکتی تھی۔خوش خطی کے لئے ا- ب- ج- دکا لکھنا مہینوں کا سفر تھا اور چونکہ میرے دماغ کو ہاتھ سے کسب کرنے کی بناوٹ نہیں بخشی گئی تھی۔میں اس فن سے بھی کو رے کا کو برا رہا۔رسائل طغراء کے عجیب در عجیب نکات اور امام ویروی صاحب کے بے نظیر قطعات اس عمر میں میری دلچسپی کا باعث نہ تھے۔مرزا امام و یروی صاحب مہرکنی کے کسب میں بھی کمال رکھتے تھے مگر مجھے اس سے بھی محروم رہنا پڑا۔یہ میرے دونوں استاد شیعہ مذہب کے پابند تھے مگر مباحثات سے ان دونوں بزرگوں کا تعلق کم تھا۔مجھے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ شیعہ مذہب سے میں آگاہ ہو گیا۔پس اس محنت کا اگر کوئی نتیجہ سمجھا جائے تو صرف یہ تھا کہ میری معلومات میں شیعہ مذہب کے جاننے کی ترقی ہوئی۔اسی زمانہ میں حکیم اللہ دین لاہوری سے نیاز حاصل ہوا مگر فارسی اور خوش خطی کے شغل نے موقع نہ دیا کہ کوئی استفادہ کرتا۔۷۲ ہجری میں مجھ کو وطن آنا پڑا اور میاں حاجی شرف الدین فارسی کے استاد مقرر کئے گئے مگر دلچسپی کے نہ ہونے نے یہ فائدہ پہنچایا کہ مجھے سبق یاد کرنے کی محنت سے بچالیا اور میرے قومی خوب مضبوط رہے۔غالبا اس وقت اگر کوئی محنت کا علم پڑھتا تو میرے دماغ کو تکلیف ہوتی اس لئے اس کا بھی شکر ہی ادا کرتا ہوں۔تھوڑے عرصہ کے بعد میرے بھائی سلطان احمد صاحب بھیرہ میں تشریف لائے اور انہوں نے باضابطہ عربی کی تعلیم دینی شروع کی۔خدا تعالیٰ ان کا بھلا کرے انہوں نے صرف میں بناؤں اور تعلیلات کا گورکھ دھند ا میرے سامنے نہ رکھا۔بہت سادہ طور پر تعلیم شروع کی جو میرے لئے مفید اور دلچسپ ثابت ہوئی۔میں نے بہت ہی جلد یہ رسائل پڑھ لئے۔جناب الہی کے انعامات میں سے یہ بات تھی کہ ایک شخص غدر میں کلکتہ کے تاجر کتب جو مجاہدین کے پاس اس زمانہ میں روپیہ لے جایا کرتے تھے ، ہمارے مکان میں اترے۔انہوں نے ترجمہ قرآن کی طرف یا یہ کہنا چاہیے کہ اس گراں بہا جواہرات کی کان کی طرف مجھے متوجہ کیا جس کے باعث میں اس بڑھاپے میں نہایت شادمانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ۔یہ تو کلکتہ کے تاجر سے فائدہ ہوا۔پھر