مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 285
۲۸۵ پرستش کے معنی بتائے کہ جس میں دھیان ہو۔عظمت ہو۔میں نے ایک شخص سے کہا کہ ذرا نماز پڑھو۔اس نے پڑھی۔میں نے اس برہمو سے دریافت کیا کہ بتاؤ اس میں کوئی مکه معظمہ کا دھیان یا عظمت ہے یا مکہ سے کوئی دعا مانگی گئی ہے؟ (۱۳) نومبر ۱۹۱۰ء) ایک شریر آدمی نے مجھ سے کیا کہ اگر اس زمین سے آسمان تک اور لا انتها فضا تک کو پتھروں سے بھر دیا جائے تو پھر (نعوذ باللہ) تمہارا خد ا کہاں جائے گا؟ میں نے کہا کہ زمانہ ان سب پر حکومت کرتا ہے یا نہیں ؟ مثلاً ایک سیکنڈ تمام فضا اور تمہارے پتھروں پر گذر تا ہے یا نہیں؟ کہا ہاں زمانہ تو ان پتھروں سے نہیں کچلا جاتا۔میں نے کہا۔زمانہ تو خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے۔(۲۴ / جنوری ۱۹۱۲ء) ایک وکیل نے مجھ سے دریافت کیا کہ ہستی باری تعالی کی دلیل کیا ہے ؟ میں نے کہا۔تمہاری کوئی جماعت ہے؟ کہا۔نہیں۔میں نے کہا۔تم کسی کے ہادی ہو ؟ کہا۔نہیں۔میں نے کہا۔تم یہ چاہتے ہو کہ جھوٹے مشہور ہو جاؤ ؟ کہا۔نہیں۔میں نے کہا۔جب تم جیسا لچر آدمی بھی اپنے آپ کو جھوٹا کہلانا پسند نہیں کرتا تو بھلا یہ انبیاء کی تمام جماعت کیسے گوارا کر سکتی تھی کہ وہ جھوٹ بولیں؟ پھر مشرق سے لیکر مغرب تک شمال سے لیکر جنوب تک اور ہر زمانہ کے نبی متفق ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے مکالمہ کرتا ہے۔(۷ار فروری ۱۹۱۲ء) ایک دہر یہ میرے پاس بہت آتا جاتا تھا۔اس نے کہا کہ ایک ہندو قرآن کا بڑا ماہر ہے اور وہ تمہار ا واقف نہیں۔واقف ہو کر شاید بحث نہ کرے۔لہذا ابھی چلو۔میں گیا۔اس سے کہا کہ