مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 284
۲۸۴ (۲۶ / جون ۱۹۰۹ء) ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ فضا میں عدم محض ہے۔میں نے کہا تو پھر چاند سورج عدم محض میں چلے گئے ؟ کہنے لگا۔لفظوں کی غلطی نہ پکڑو۔میں نے کہا آخر کلام تو لفظوں ہی سے ہوتا ہے۔(۹تر اگست ۱۹۰۸ء) ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ تمہارے خدا کی کیا شکل اور کیارنگت ہے ؟ میں نے کہا۔تو اول یہ بتا کہ تیری آواز کی کیا شکل ہے ؟ تیری قوت ذائقہ کی کیا صورت ہے ؟ تیری بینائی کی کیا رنگت ہے؟ اس نے کہا۔کم از کم ان کے مقام تو معین ہیں۔میں نے کہا۔زمانہ کی کوئی جگہ مقرر ہے ؟ ایک سیکنڈ کا لا کھواں حصہ بھی سارے جہان کو اپنی بغل میں لئے بیٹھا ہے۔زمانہ کی کوئی شکل بھی نہیں اور زمانہ موجود بھی ہے اور اس کا کوئی مکان بھی معین نہیں۔پس ہم ایسی بہت سی مخلوق کو جانتے ہیں جس کی کوئی جگہ مقرر نہیں کر سکتے۔مخلوق میں جب ایسی مثالیں ہیں تو خد ا تو پھر خدا ہی ہے۔(۲۸ دسمبر ۱۹۰۹ء) کفرو شرک بھی بڑی ظلمت ہے۔میں نے بڑے بڑے ہندوؤں کو ناچتے اور سفید داڑھیوں پر بتوں کے سامنے طنبور بجاتے ہوئے دیکھا ہے۔ضلع سیالکوٹ میں ایک شخص اپنی لڑکیوں کو بھی اپنے ساتھ نچوا تا تھا۔(۱۰) اکتوبر ۱۹۱۰ء) ایک برہمو نے مجھ سے کہا کہ آپ لوگ مکہ معظمہ کی پرستش کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ پرستش کے معنی کیا ہیں بتاؤ ؟ کہا ہو جا۔میں نے کہا پو جا کس کو کہتے ہیں ؟ تب اس نے