مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 286
۲۸۶ سنا ہے آپ قرآن شریف کو خوب جانتے ہیں اور آپ نے کچھ اعتراض بھی کئے ہیں۔غرض بہت سی باتوں کے بعد اس نے کہا کہ ذرات عالم مفقود نہیں ہوتے اور قرآن میں لکھا ہے کہ مفقود ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ دو دعوے ہیں۔ایک کا ثبوت آپ کے ذمہ کہ مفقود نہیں ہوتے اور دوسرا قرآن کے ذمہ کہ مفقود ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم منگایا گیا۔اس نے آیت نکالی كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ میں نے کہا کل کا ترجمہ کیا ہوا؟ کہا ہر چیز من کا ترجمہ نہ کر سکا۔علیها کا ترجمہ کیا۔جو زمین پر ہیں۔میں نے کہا اس سے تو ثابت ہوا کہ جو زمین کے اوپر اوپر ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ سب نہیں۔پھر میں نے کہا۔کہ اس میں مفقود کا لفظ نہیں۔معدوم کا لفظ بھی نہیں؟ اب فان کا ترجمہ باقی ہے کہ معدوم معنی ہیں یا نہیں ؟ وہ کچھ حیران پریشان سا رہ گیا۔(۱۳) جون ۱۹۱۲ء) میں ایک مرتبہ راولپنڈی گیا۔ایک آریہ دوست نے میری خاطر عمدہ عمدہ خربوزہ لا کر میرے آگے رکھے۔اپنے ہی ہاتھ سے کاٹنے لگا۔پہلے پیج علیحدہ کئے۔پھر قاشیں بنائیں۔پھر چھلکے علیحدہ کئے۔پھر شکر ملائی۔جب میرے آگے رکھنے لگا تو کہا گوشت کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ میں نے کہا۔بندہ تو کوئی گوشت نہیں کھاتا۔یہ سوال بے ہودہ ہے۔حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ بڑے مہاتما ہیں۔یہ بھلا گوشت کے مجوز ہو سکتے ہیں؟ وہ میرے طرز مباحثہ سے ناواقف تھا۔میں نے کہا کہ میں نے اپنی مدت العمر میں ایک برہمن کو گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔(ایک اودھ کی طرف کا برہمن تھا۔وہ کشمیر میں فوج کا کرنیل تھا۔بازار سے گوشت لا تا اور راستہ میں کچا ہی کھاتا ہوا جاتا، میں نے ایک قاش اٹھائی اور کہا کہ اس کا نام خربوزہ تو نہیں ہے۔خربوزہ تو وہ تھا جس کا اکثر حصہ یعنی پیج اور چھلکا وغیرہ تم نے پھینک دیا ہے۔یہ کیا ہے؟ کہا یہ تو شکر مل کر کوئی مرکب چیز ہی بن گئی ہے جو کچھ اس کا نام رکھا جائے۔میں نے کہا۔انسان ایسا مرکب ہے کہ خربوزہ تک کو نہیں کھا سکتا یہ بھلا گوشت کیا کھا سکتا