مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 257
۲۵۷ آپ نے بالاستیعاب دو تین پڑھی ہیں۔وہ پھر گئے تو کہا کہ انی متوفیک والی آیت تو میں نے جلالین اور تفسیر حسینی میں پڑھی ہے۔پس یہ جو لوگ ”جمہور علماء کا قول" یا جمہور امت وغیرہ کہا کرتے ہیں۔اس کی اکثر ایسی ہی حقیقت ہوتی ہے۔(۱۲/ نومبر ۱۹۱۰ء) لاہور میں ایک شخص مولوی رحیم بخش چینیاں والی مسجد میں رہتے تھے۔انہوں نے اسلام کی پہلی، دوسری ، تیسری وغیرہ بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ایک مرتبہ وہ بڑے زور شور کے ساتھ مجھ سے مباحثہ کرنے کے لئے آئے اور آتے ہی کہا کہ قرآن تو مجمل ہے۔اس اجمال کی تفصیل کے لئے اور کس کتاب سے مدد لیں ؟ میں نے کہا کہ قرآن مجمل ہے ؟ کہا ہاں۔میں نے کہا خد اتعالیٰ تو فرماتا ہے۔کتاباً مفصلاً آپ فرماتے ہیں مجمل۔بس اٹھ کر چلے گئے اور کہا کہ ساری عمر آپ سے مباحثہ نہ کروں گا۔چنانچہ پھر ساری عمر مجھ سے بحث نہیں کی۔اار ستمبرے ۱۹۰ء) مجھ کو ایک وجودی کے ساتھ کھانا کھانے کا اتفاق ہوا۔ایک کتے کی طرف جو ہڈی پھینکی تو وجودی بولا۔یہ بھی آپ ہی ہیں۔وہ وجودی سیال والوں کا مرید تھا۔میں نے کہا۔بس اب تو آپ کو موضع سیال میں جانے کی حاجت ہی نہ رہی۔وجودی بولا۔واہ مولوی صاحب ! تم نے ہمارے مرشد کو گالی دی۔میں نے کہا تم نے ہمارے خدا کو گالی دی۔فبهت (۱۳) مئی ۱۹۰۹ء) ایک مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ کافروں کے مسلمان بنانے کو تم احیاء کہتے ہو۔یہ تو ایک معمولی بات ہے۔میں نے تھوڑے وقفہ سے کہا کہ تمہارے گاؤں میں کوئی کافر ہے۔کہا