مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 256 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 256

۲۵۶ (۴ر مارچ ۱۹۰۷ء) مہاراجہ کشمیر بارہا سر دربار تمام درباریوں کو مخاطب کر کے کہا کرتے تھے کہ تم سب اپنی اپنی غرض کو آکر میرے پاس جمع ہو گئے ہو اور میری خوشامد کرتے ہو۔لیکن صرف ایک یہ شخص ( میری طرف اشارہ کر کے) ہے جس کو میں نے اپنی غرض کو بلایا ہے اور مجھ کو اس کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔(۶ ا ر د کمبر ۱۹۱۱ء) مجھ کو کسی سے خود کوشش کر کے مباحثہ کرنے کی نہ کبھی خواہش ہوئی اور نہ اب ہے۔ہاں! جب کوئی مجبور ہی کر دے اور گلے ہی میں آپڑے تو پھر خد اتعالیٰ سے دعا مانگ کر مباحثہ کیا اور ہمیشہ کامیاب ہوا ہوں۔تم لوگ اس کا تجربہ کر کے دیکھو۔ہاں انبیاء علیہم السلام معذور ہوتے ہیں۔کیونکہ مامور ہوتے ہیں۔بعض مولوی صاحبان (۱۸/ مارچ ۱۹۱۲ء قبل از نماز ظہر کھانا کھاتے ہوئے) ایک مرتبہ میں لاہور میں تھا۔ایک وکیل میرے پاس آئے اور کہا کہ ایک بہت بڑے عالم آئے ہیں انہوں نے ایک سو تیں تفسیریں خوب بغور پڑھی ہیں۔میں نے کہا کہ ایک سو تمہیں تفسیریں تو اس ملک پنجاب میں بھی نہ ہوں گی۔پھر میں نے کہا۔اچھا جاؤ۔مولوی صاحب سے ان ۱۳۰ تفسیروں کے نام لکھوا لاؤ۔وہ وکیل گئے تو مولوی صاحب نے کہا ایک کے سو تمیں نہیں تو تمہیں تو پڑھی ہیں۔وہ میرے پاس آئے کہ ۳۰ رہ گئیں۔میں نے کہا۔اچھا جاؤ۔تمیں ہی کے نام لکھو الا ؤ - وہ پھر گئے تو مولوی صاحب نے کہا کہ تمیں نہیں مگر ہاں دو تین تو پڑھی ہیں۔مجھ سے آکر کہا۔تو میں نے وکیل صاحب سے کہا کہ اچھا ان سے یہ پوچھو کہ