مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 258 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 258

۲۵۸ ہاں ایک ہندو دوکاندار ہے۔میں نے کہا تم مولوی ہو تم نے اب تک کیوں اس کو مسلمان نہیں بنایا ؟ کچھ سوچ سوچ کر کہنے لگا کہ واقعی یہ بڑا مشکل کام ہے اور نبیوں ہی کا کام ہے۔(۷ار مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص نے میرے اوپر کفر کا فتویٰ لگایا۔اس میں سترہ وجوہ میرے کفر کے لکھے۔میں نے ایک دن اس سے کہا کہ یہ تمام وجوہ فی الواقع باعث کفر ہیں۔میں بھی مہر لگا تا ہوں۔(۲۳) مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص نے مجھ سے پاخانہ (براز) کی حرمت کا ثبوت دریافت کیا۔میں نے کہا کہ وہ تو قدرت نے ہمارے جسم سے ایک مضر چیز خود خارج کی ہے اس کو پھر واپس لینا یہ کہاں کی انسانیت اور عظمندی ہے۔( یکم جون ۱۹۰۹ء) جاء الإحتمال بطل الاستدلال یہ مولویوں کا ایک فقرہ ہے۔ہر بات میں ایک احتمال نکال دیتے اور کہہ دیتے ہیں جاء الاحتمال بطل الاستدلال میں نے ایک مولوی سے کہا کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ جس میں کوئی احتمال ہو وہ دلیل میں پیش نہ کیا جائے بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ جب احتمال آتا ہے تو پھر استدلال سے کام لینے کی ضرورت ہی نہیں۔کیونکہ استدلال میں تو احتماں نکل سکتا ہے۔ایسے طریق سے استدلال بھی باطل ہو جاتا ہے۔مطلب یہ کہ احتمال سے کام نہ لو - استدلال سے کام لو۔(۱۰) جون ۱۹۰۹ء) نواب محسن الملک نے ایک لیکچر دیا۔اس میں اسلامیوں کے تنزل کے اسباب بیان گئے۔